مسیحی اپنے ان پیاروں کی موت کا غم کرتے ہیں جو ایماندار تھے، لیکن ہم امید کے بغیرغم نہیں کرتے (Christians Grieve the Death of Believing Loved Ones, But We Don’t Grieve Without Hope)

مصنف: رینڈی ایلکورن  ( Author: Randy Alcorn )

مترجم: گوہر الماس      ( Translator: Gohar Almas ) 

 

جیسا کہ خدا چاہتا تھا موت زندگی کا اس طرح فطری حصہ نہیں ہے ۔ یہ برائی کا غیر فطری نتیجہ ہے۔ اور پھر بھی خُدا نے یسوع کی موت اور اس کے جی اُٹھنے کے ذریعے موت کے ڈنگ کو ختم کر دیا ، جو ایک مسیحی کی میموریل سروس میں امن اور فتح کے مناسب مطلب جس میں غم ہوتا ہے اس کی وضاحت کرتا ہے۔

میں نے مسیحیوں اور غیر مسیحیوں دونوں کے جنازے ادا کیے ہیں۔ جیسے ہی میں وہاں جمع ہونے والے مسیحیوں  کی آنکھوں میں آنسو دیکھتا ہوں جو کہ حقیقی ہوتے ہیں تو اس کے ساتھ  مجھے ان کے ماتم کے درمیان امید، مقصد اور امن بھی نظر آتا ہے۔

ہم نے اپنے پیاروں کو نہیں کھویا جو ایماندار تھے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ اصل میں کہاں ہیں۔ اور ہم جانتے ہیں کہ قیامت میں ہم خدا اور ان ایمانداروں کے ساتھ ایک نئی زمین پر رہیں گے۔

مسیحیوں کے لیے موت کوئ دیوار نہیں بلکہ ایک دروازہ ہے۔ موت کا مطلب "آخری الوداع" نہیں بلکہ "بعد میں ملتے ہیں" ہے ۔ ہم کسی اپنے کے جانے پر غمگین ہوتے ہی لیکن مختلف طریقے سے، جس میں ایمانداری، سچائ اور احتیاط شامل ہوتی ہے اس لیے کہ ہم اپنوں سے دوبارہ ملاپ اور ایک نئے آسمان اور نئی زمین کے منتظر ہیں۔ (دیکھیے 2 پطرس باب 3 ، آیت 13)۔

موت ہمارے ساتھ پیش آنے والی بد ترین چیز نہیں ہے۔ اس کے برعکس خدا کے فرزندوں کے لیے موت بہترین سمت کی طرف لے جاتی ہے۔ پولس فلپیوں باب 1 ، آیت 21 میں کہتا ہے "کیونکہ زِندہ رہنا میرے لِئے مسِیح ہے اور مَرنا نفع۔" آیت 23 "میرا جی تو یہ چاہتا ہے کہ کُوچ کر کے مسِیح کے پاس جا رہُوں کیونکہ یہ بُہت ہی بِہتر ہے۔ "

ایسا نہ ہو کہ ہم یہ سمجھیں کہ وہ خالصتاً ایمان کے حوالے سے بول رہا تھا، سچ یہ ہے کہ پولس خود ان الفاظ کو لکھنے سے برسوں پہلے جنت میں لے جایا گیا تھا (2 کرنتھیوں باب 12، آیات 1 تا 6)۔

وہ خود ہی جانتا تھا کہ جنت میں اس کا کیا انتظار کررہا ہے۔ جب پولس نے اسے فائدہ کہا تو وہ قیاس آرائ نہیں کر رہا تھا۔

وہ خود ہی جانتا تھا کہ جنت میں اس کا کیا انتظار کررہا ہے۔ جب پولس نے اسے فائدہ کہا تو وہ قیاس آرائ نہیں کر رہا تھا۔ یسوع کی موجودگی میں ہونے، اس کی ہستی کے عجائبات سے لطف اندوز ہونے، خدا کے لوگوں کے ساتھ رہنے اور مزید گناہ نہ کرنے اور مصائب کا شکار نہ ہونے کو صرف یہ کہنا کہ "بہتربات ہے" ان سب باتوں کی اہمیت کو کم سمجھنے کے برابر ہے

اسی پولس نے تھیسلنیکیوں کو یہ نہیں بتایا کہ وہ اپنے پیاروں کے لیے جو مر چکے ہیں ان کے بارے میں ہرگز غم نہ کریں۔ بلکہ وہ لکھتا ہے۔ " تاکہ اَوروں کی مانِند جو نااُمّید ہیں غم نہ کرو۔" (1 تھیسلنیکیوں باب 4 ، آیات 13 )

یعنی انہیں اس طرح غمگین نہیں ہونا چاہئے جسس طرح تلخ مایوسی کے ساتھ غیر ایماندار ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ کہ وہ غم کر سکتے ہیں۔

وہ انہیں یقین دلاتا ہے کہ مسیح ہماری خاطِر اِس لِئے مُؤا کہ ہم جاگتے ہوں یا سوتے ہوں سب مِل کر اُسی کے ساتھ جِئیں۔  1 تھِسّلُنیکیوں باب 5 ، آیت 10

وہ انہیں یقین دلاتا ہے کہ مسیح ہماری خاطِر اِس لِئے مُؤا کہ ہم جاگتے ہوں یا سوتے ہوں سب مِل کر اُسی کے ساتھ جِئیں۔  1 تھِسّلُنیکیوں باب 5 ، آیت 10

اوراس طرح وہ ان کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ جو لوگ مر چکے ہیں وہ خداوند کے ساتھ ہیں۔

اس لیے کلام پاک کہتا ہے کہ ' مُبارک ہیں وہ مُردے جو اَب سے خُداوند میں مَرتے ہیں۔' مکاشفہ باب 14، آیت 13  ' درحقیقت، کلام پاک ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ خُداوند کی نِگاہ میں اُس کے مُقدّسوں کی مَوت گِراں قدر ہے۔' زبور 116، آیت 15

لہٰذا، اگرچہ مسیحی دوستوں اور رشتہ داروں کے مرنے پر ہمیں حقیقی دکھ ہوتا ہے، لیکن ہم کلام کے ساتھ یہ بھی کہہ سکتے ہیں ' اَے مَوت تیری فتح کہاں رہی؟

اَے مَوت تیرا ڈنک کہاں رہا؟ '۔۔۔۔۔۔۔ ' مگر خُدا کا شُکر ہے جو ہمارے خُداوند یِسُوعؔ مسِیح کے وسِیلہ سے ہم کو فتح بخشتا ہے۔ ' 1 کرنتھیوں باب 15 ، آیات 55 اور 57

 اگرچہ ہم ماتم کرتے ہیں لیکن ہمارے سوگ میں خدا کی عبادت اور مرنے والے اپنے پیارے کی زندگی کے لئے شکر گزاری شامل ہونی چاہیے۔

جوناتھن ایڈورڈز ، جس کی خدا کے فضل کے بارے میں تھیولوجی چارلس سپرجین کو پسند تھی ، اس نے خدا کے ساتھ ہمارے تعلقات کے بارے توقعات اور فردوس میں اپنے پیاروں کے ساتھ ہمارے تعلقات کی توقعات کے درمیان کوئی تنازعہ نہ دیکھا 

ہمارا ہر مسیحی دوست جو اس دنیا سے ہم سے پہلے چلا جاتا ہے وہ ایک فدیہ کی روح ہے جو فردوس میں ہمارے استقبال کے لیے منتظر ہے۔ جو کچھ ہم نے نیچے کھویا ہے ہم اسے فضل کے ذریعے اوپر پا لیں گے۔ وہاں ہم مسیحی باپ ، ماں اور بیوی اور بچے اور دوست، جن کے ساتھ ان کی موت کی وجہ سے ہماری مقدس رفاقت جو یہاں رک گئ تھی اس کو وہاں تازہ کریں گے جو ہمیشہ کے لیے ہوگی۔ وہاں ہم پرانے اور نئے عہد نامے کے بزرگوں اور باپ دادا اور نبیوں کے ساتھ رفاقت رکھیں گے، اور ان لوگوں کے ساتھ جن کے لیے دنیا اس قابل نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہاں سب سے بڑھ کر ہم خدا باپ کے ساتھ سکونت سے لطف اندوز ہوں گے جس کے ساتھ ہم نے زمین پر اپنے پورے دل سے محبت رکھی۔ اور ہمارے پیارے نجات دہندہ یسوع مسیح کے ساتھ جو ہمیشہ ہمارے لیے ہزاروں کا سردار ہے اور مکمل طور پر ہمارا پیارا ہے۔ اور ہمارے مقدس اور رہنما اور تسلی دینے والے روح القدس کے ساتھ ہمیشہ کے لیے خدا کی تمام معموری سے بھرے رہیں گے

یہ کیسی کمال جگہ ہوگی - جہاں  ہم ثالوث خُدا اور اُس کے نجات یافتہ عظیم خاندان کے ساتھ بھرپور ابدی رفاقت میں رہینگے۔ میں صرف اس کے بارے میں سوچ کر ہی جذبات سے بھر جاتا ہوں۔ وہ کتنا عظیم خُدا ہے جس کے ساتھ ہم ہمیشہ لطف اٹھائینگے اوراس کی خدمت کریں گے! ہم وہاں ایک ساتھ کتنا اچھا وقت گزاریں گے

 

Christians Grieve the Death of Believing Loved Ones, But We Don’t Grieve Without Hope

Death is not a natural part of life as God intended it. It is the unnatural result of evil. And yet through Jesus’ death and resurrection, God has removed the ultimate sting of death, which explains the appropriate sense of peace and triumph that accompanies grief at a Christian’s memorial service.

I’ve conducted funerals for both Christians and non-Christians. As I look into the eyes of those gathered, the tears are just as real for Christians, but I also see hope, perspective, and peace in the midst of their mourning. We haven’t lost our believing loved ones—we know where they are. And we know that in the resurrection we will live with God and with them on a New Earth.

For Christians, death is not a wall but a doorway. Death is not a last good-bye but a “See you later.” We grieve differently, yet honestly and openly, precisely because we look forward to our reunion and to a New Heaven and a New Earth (see 2 Peter 3:13).

Death isn’t the worst that can happen to us; on the contrary, for God’s children, death leads to the best. Paul says, “For to me, to live is Christ and to die is gain.… I desire to depart and be with Christ, which is better by far” (Philippians 1:21, 23). Lest we think he was speaking purely by faith, the truth is that Paul himself had actually been taken into Heaven years before writing those words (2 Corinthians 12:1–6). He knew firsthand what awaited him in Paradise. He wasn’t speculating when he called it gain. To be in the very presence of Jesus, enjoying the wonders of His being, to be with God’s people and no longer subject to sin and suffering? “Better by far” is an understatement!

Yet this same Paul does not tell the Thessalonians that they should not grieve at all concerning their loved ones who have died. Rather, he writes, “that you may not grieve as others do who have no hope” (1 Thessalonians 4:13)—they should not grieve in the same way, with the same bitter despair, that unbelievers have. But certainly they should grieve.

He assures them that Christ “died for us so that whether we wake or sleep we might live with him” (1 Thessalonians 5:10), and thereby encourages them that those who have died have gone to be with the Lord. That is why Scripture can say, “Blessed are the dead who die in the Lord henceforth . . . that they may rest from their labors” (Revelation 14:13). In fact, Scripture even tells us, “Precious in the sight of the LORD is the death of his saints” (Psalm 116:15).

Therefore, though we have genuine sorrow when Christian friends and relatives die, we also can say with Scripture, “O death, where is your victory? O death, where is your sting? . . . Thanks be to God, who gives us the victory through our Lord Jesus Christ” (1 Corinthians 15:55-57). Though we mourn, our mourning should be mixed with worship of God and thanksgiving for the life of the loved one who has died.

Jonathan Edwards, whose theology of sovereign grace Charles Spurgeon loved, saw no conflict between anticipating our relationships with God and anticipating our relationships with our loved ones in Heaven:

Every Christian friend that goes before us from this world is a ransomed spirit waiting to welcome us in heaven. There will be the infant of days that we have lost below, through grace to be found above. There the Christian father, and mother, and wife, and child, and friend, with whom we shall renew the holy fellowship of the saints, which was interrupted by death here, but shall be commenced again in the upper sanctuary, and then shall never end. There we shall have companionship with the patriarchs and fathers and saints of the Old and New Testaments, and those of whom the world was not worthy. . . . And there, above all, we shall enjoy and dwell with God the Father, whom we have loved with all our hearts on earth; and with Jesus Christ, our beloved Savior, who has always been to us the chief among ten thousands, and altogether lovely; and with the Holy Spirit, our Sanctifier, and Guide, and Comforter; and shall be filled with all the fullness of the Godhead forever!

What a world that will be—to live in rich eternal fellowship with the triune God and the great family of His redeemed. I’m overwhelmed just thinking of it. What a great God we’ll enjoy and serve forever! What a great time we’ll have together there!

Photo by Jeena Paradies on Unsplash

Randy Alcorn (@randyalcorn) is the author of fifty-some books and the founder and director of Eternal Perspective Ministries