ابدیت کے بارے ایک نقطہ نظر سب کچھ کیوں بدل دیتا ہے (Why an Eternal Perspective Changes Everything)

 مصنف: رینڈی ایلکورن  ( Author: Randy Alcorn )

مترجم: گوہر الماس     ( Translator: Gohar Almas )

 

ابدیت کے بارے ایک نقطہ نظر رکھنا کئ طرح سے ایک حقیقی مسیح زندگی گزارنے کی کنجی ہے۔ کلام مقدس 2 کرنتھیوں 18:4 میں کہتا ہے "جس حال میں کہ ہم دیکھی ہُوئی چِیزوں پر نہیں بلکہ اندیکھی چِیزوں پر نظر کرتے ہیں کیونکہ دیکھی ہُوئی چِیزیں چند روزہ ہیں مگر اندیکھی چِیزیں ابدی ہیں۔ اگر ہم اس حقیقت کو مان لیں تو یہ ہمارے سوچنے اور زندگی گذارنے کے انداز کو ہمیشہ کے لیے بدل دے گی۔

ہم اپنی منسٹری کے ذریعے ایمانداروں کو ترغیب دیتے ہیں کہ زندگی کو مختلف انداز سے دیکھیں۔ جیسے الیشیع کے خادم کی آنکھیں کھلی تھیں تاکہ وہ فرشتوں کو اپنے اردگرد اور حفاظت کرتے دیکھ سکے (2 سیلاطین 6)۔

ایسا نہیں تھا کہ اچانک وہ فرشتے وہاں آن موجود تھے بلکہ وہ ہر وقت وہاں موجود تھے۔ آخرکار اس کی آنکھیں پوشیدہ حقائق کو دیکھنے کے لیے کھل گئیں۔

میں یہ نہیں کہہ رہا کہ اگر ہمارے پاس ابدیت کے بارے نقطہ نظر ہوگا تو ہم فرشتوں اور شیاطین کو دیکھیں گے! میں یہ کہہ رہا ہوں کہ ہمیں خُدا سے کہنا ہے کہ وہ ہماری آنکھیں کھولے تاکہ جو کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے ہم اسے دیکھ پائیں— دنیا میں جو نہیں نظرآتا اس سے لے کر اور آسمان کی حقیقت تک جو ہماری ابدی منزل ہے۔ 

ہم میں سے اکثر اس دنیا کے افق کے علاوہ کچھ نہیں دیکھتے۔ ہمارے کم دیکھنے کو درست کرنے کے لیے، خُدا نے ہماری نظر کی بہتری کے لیے ایک چیز مہیا کی ہے جو ہمیں ابدیت کی عینک سے دیکھنے کی اجازت دیتی ہے۔ اچانک ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہماری یہ موجودہ زندگی مواقع کی ایک کھڑکی ہے یعنی ہم جیسا یہاں کرینگے ویسا ابدیت کے لیے ہوگا۔ 

یہ جانتے ہوئے کہ یہ موجودہ دنیا ختم ہو جائے گی اور ایک نئی زمین اور ایک نیا آسمان بن جائینگے اس سے ہمارے روزمرہ کے رویے پر گہرا اثر پڑے گا۔ " تُمہیں پاک چال چلن اور دِین داری میں کَیسا کُچھ ہونا چاہئے۔  خُدا کے اُس دِن کے آنے کا کَیسا کُچھ مُنتظِر اور مُشّتاق رہنا چاہئے۔ لیکن اُس کے وعدہ کے مُوافِق ہم نئے آسمان اور نئی زمِین کا اِنتِظار کرتے ہیں جِن میں راست بازی بسی رہے گی۔ پس اَے عزِیزو! چُونکہ تُم اِن باتوں کے مُنتظِر ہو اِس لِئے اُس کے سامنے اِطمِینان کی حالت میں بے داغ اور بے عَیب نِکلنے کی کوشِش کرو۔ 2- پطرس 14:3-11   

اگر ہم سمجھتے ہیں کہ "ایک نۓ آسمان اور نئی زمین" کا کیا مطلب ہے تو ہم اس کا انتظار کریں گے۔ (اور اگر ہم اس کے منتظر نہیں ہیں، تو ہمیں ابھی تک نۓ آسمان اور نئی زمین کا مطلب سمجھ نہیں آیا ۔) ہماری اپنے گھر واپسی کی توقع ہمیں یہاں  بے داغ زندگی گزارنے کی تلقین کریگی۔ 

جونی ایریکسن ٹاڈا اپنی کتاب میں لکھتے ہیں۔

 جب ایک مسیحی کو احساس ہوتا ہے کہ اس کی حقیقی شہریت آسمان کی  ہے، تو وہ زمین پر ایک ذمہ دار شہری کے طور پر کام کرنا شروع کر دیتا ہے۔ وہ رشتوں  کو قائم رکھنے میں سمجھداری سے چلتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ وہ ابدی ہیں۔ وہ اپنی گفتگو، مقاصد اور کاموں میں مخلص اور ایماندار ہو جاتا ہیں کیونکہ اسے احساس ہوجاتا ہے کہ ان کا اثر ابدی اجر کے وقت ہوگا۔ وہ دل کھول کر اپنا وقت، پیسہ اور ہنر آگے دیتا ہے کیونکہ وہ ہمیشہ کے لیے خزانہ جمع کر رہا ہوتا ہے۔ وہ مسیح کی خوشخبری پھیلاتا ہے کیونکہ وہ آسمانی صفوں کو اپنے دوستوں اور پڑوسیوں سےبھرنا چاہتا ہے۔ اس کا سفر نہ صرف آسمان پر بلکہ زمین پر بھی اچھا ہے۔ کیونکہ اس کا تعلق اس کے آس پاس کے ہر فرد سے ہے۔ 

جب ہم اپنے آج کو آنے والے طویل کل کی روشنی میں دیکھتے ہیں تو ہمارے آج کے چھوٹے انتخاب بہت اہم ہو جاتے ہیں۔ چاہے میں آج اپنی بائبل پڑھوں، دعا کروں، گرجہ گھر جاؤں، مصائب کے ہوتے ہوۓ بھی مسیح پر بھروسہ کروں، اپنے ایمان کو بانٹوں، اور اپنا پیسہ ضرورت مندوں کو دوں— اور ایسا میرے جسم سے نہیں بلکہ اُس کی روح کے ذریعے ہو — تو اس کا ابدی نتیجہ ہوگا، نہ صرف دوسری روحوں کے لیے بلکہ میرے لیے بھی۔ 

تو آخر ہمیشہ کیا رہے گا؟ خدا، خدا کا کلام اورخدا کے لوگ۔ خدا کا کلام پڑھتے ہوۓ وقت گزارنا اور لوگوں میں خدمت کرنا ابدیت میں اجرعطا کرے گا اور اس سے مجھے خوشی اور نقطہ نظر ملے گا۔ ہمیں اس زندگی کو ضائع کرنے کی ضرورت نہیں۔ مسیح کی خدمت کے چھوٹے اور اکثر دھیان میں نہ آنے والے کاموں کوسرانجام دے کر ہم اس زندگی کو ابدیت کے اجر کے لیے استعمال کرسکتے ہیں، جہاں آج کی وفاداری ہمیشہ کے لیے فائدہ دیگی۔ 

ایک ابدی نقطہ نظر نہ صرف ہمارے اعمال کو بدل دے گا بلکہ یہ ہمارے رویوں کو بھی بدل دے گا۔ ذہن میں ابدیت کو رکھتے ہو جینا ہمیں ایک ایسی خوشی اور مقصد سے بھردے گا جو ہمیں روزمرہ کی زندگی میں ثابت قدم رکھ سکتا ہے، یہاں تک کہ جب ہم مشکل حالات کا سامنا ہی کیوں نہ کر رہے ہوں۔ نئ زمین پر اپنی مستقبل کی زندگی کو پہچاننا ہمیں ایک مشکل رشتے میں قائم رہنے، بیمار والدین یا بچے کی دیکھ بھال کا مشکل کام کرنے میں ثابت قدم رہنے میں مدد دے سکتا ہے۔  موسیٰ خُدا کے ساتھ وفادار رہا کیونکہ ’’وہ اپنے اجر کا منتظر تھا‘‘ (عبرانیوں 26:11)۔  

مسیح پر مرکوز راستباز زندگی آج براہِ راست یہ جاننے سے متاثر ہوتی ہے کہ ہم کہاں جائینگے اور مسیح کی خدمت کرنے کے لیے ہمیں وہاں کیا انعامات حاصل ہوں گے۔ 

بہر حال، اگر ہم واقعی یقین رکھتے ہیں کہ ہم ہمیشہ کے لیے ایک ایسی جگہ میں رہنے والے ہیں جہاں مسیح مرکز ہے جو ہمیں بہت خوشی دیتا ہے، اور جس کا مطلب ہے سب کے لیے خوشی ، تو ہم کیوں نہ فردوس تک کا سفر شروع کرنے کا انتخاب کریں؟ یا ہم واقعی اس حقیقی خوشی سے محروم رہنا چاہتے ہیں جو یسوع ہمیں یہاں اور ہمیشہ کے لیے دینا چاہتا ہے؟ 

اے باپ، آپ ہمیں دکھا کہ ہمیں اپنی نگاہیں مقبول ثقافت پر نہیں رکھنی چاہئیں، اور نہ ہی وقتی کامیابیوں اور دولت پر، بلکہ ہمیں اپنی نگاہیں اس چیز پر رکھنی ہیں جو ابدی ہے، جو اب سے ایک ارب سال بعد بھی بہت اہم ہوگی ہے۔ ہمیں ایمان کی آنکھیں دے، اور ہمیں یاد دلا کہ ہم اپنی توجہ تجھ پر، اپنے جلد واپس آنے والے نجات دہندہ، اور اس ابدیت پررکھیں جو ہمارا انتظار کر رہی ہے۔

 

Why an Eternal Perspective Changes Everything

Having an eternal perspective is in many ways the key to living a true Christ-following life. Scripture says in 2 Corinthians 4:18, “So we fix our eyes not on what is seen, but on what is unseen, since what is seen is temporary, but what is unseen is eternal” (NIV). If we let this reality sink in, it will forever change the way we think and live.

In our ministry, we encourage believers to look at life differently—like Elisha’s servant whose eyes were opened so he could see the angels surrounding and  protecting them (2 Kings 6). It wasn’t that suddenly those angels were there. They were there all along. He finally had the eyes to actually see the invisible realities.

I’m not saying that we’re going to be seeing angels and demons if we have an eternal perspective! What I am saying is we need to ask God to open our eyes to what’s at stake—to the unseen world and the reality of Heaven, our eternal destination. 

Most of us see no further than the horizons of this world. To correct our shortsightedness, God prescribes a vision correction that allows us to look through the lens of eternity. Suddenly we realize this present life is but a brief window of opportunity to invest in what will last for eternity.

Knowing that this present world will end and be resurrected into new heavens and a New Earth should profoundly affect our daily behavior. “...You ought to live holy and godly lives as you look forward to the day of God. . . . In keeping with his promise we are looking forward to a new heaven and a new earth, the home of righteousness. So then, dear friends, since you are looking forward to this, make every effort to be found spotless, blameless and at peace with him” (2 Peter 3:11-14, NIV).

If we understand what “a new heaven and a new earth” means, we’ll look forward to it. (And if we’re not looking forward to it, we must not yet understand it.) Anticipating our homecoming will motivate us to live spotless lives here and now.

Joni Eareckson Tada writes in Heaven: Your Real Home,

When a Christian realizes his citizenship is in heaven, he begins acting as a responsible citizen of earth. He invests wisely in relationships because he knows they’re eternal. His conversations, goals and motives become pure and honest because he realizes these will have a bearing on everlasting reward. …He gives generously of time, money, and talent because he’s laying up treasure for eternity. He spreads the good news of Christ because he longs to fill heaven’s ranks with his friends and neighbors. All this serves the pilgrim well not only in heaven, but on earth; for it serves everyone around him.

When we view today in light of the long tomorrow, the little choices become tremendously important. Whether I read my Bible today, pray, go to church, trust Christ through suffering, share my faith, and give my money—actions graciously empowered not by my flesh but by His Spirit—is of eternal consequence, not only for other souls, but for mine.

After all, what will last forever? God. God’s Word. People. Spending time in God’s Word and investing in people will pay off in eternity and bring me happiness and perspective now. This life need not be wasted. In small and often unnoticed acts of service to Christ, we can invest this life in eternity, where today’s faithfulness will forever pay rich dividends.

Not only will an eternal perspective change our actions, it will also change our attitudes. Living with eternity in mind will infuse us with a joy and purpose that can sustain us in daily life, even as we face hard things. Recognizing our future life on a resurrected Earth can help empower us to stick with a difficult marriage, to persevere in the hard task of caring for an ailing parent or child, or to stay with a demanding job. Moses stayed faithful to God because “he was looking ahead to his reward” (Hebrews 11:26).

Christ-centered righteous living today is directly affected by knowing where we’re going and what rewards we’ll receive there for serving Christ. After all, if we really believe we’re going to live forever in a realm where Christ is the center who brings us great joy, and that righteous living will mean happiness for all, why wouldn’t we choose to get a head start on Heaven through Christ-centered righteous living now? Do we really want to miss out on the true happiness that Jesus offers us here and for all of eternity?

Father, you tell us not to fix our eyes on popular culture, not on fleeting accomplishments and wealth, but upon what is eternal, what will still matter a billion years from now. Give us the eyes of faith, and remind us to focus on you, our soon-returning Savior, and on eternity with you that awaits us.  

Randy Alcorn (@randyalcorn) is the author of fifty-some books and the founder and director of Eternal Perspective Ministries