ہر روز یاد رکھنے والے چھ ابدی حقائق (Six Eternal Truths to Remember Each Day)

مصنف: رینڈی ایلکورن  ( Author: Randy Alcorn )

مترجم: گوہر الماس      ( Translator: Gohar Almas )

 

مغربی دنیا میں آج کل کے مسیحیوں کے درمیان ایک چونکا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ عادتاً ایسا سوچتے اور دوسروں کو ایسا محسوس کرواتے ہیں جیسے ابدیت کا کوئ تصور ہے ہی نہیں۔ یا، گویا ایسا سوچتے ہیں کہ ہم جو کچھ اس موجودہ زندگی میں کرتے ہیں اس کا ہماری ابدیت پر کوئی اثر نہیں پرتا۔

آج کل کا رجحان یہ ہے کہ ہم اپنے ابدی مستقبل پر توجہ نہیں کرتے (کون محبت سے بھرے الوداع کی پرواہ کرتا ہے ؟) اور صرف اپنے موجودہ حالات کے بارے میں سوچتے ہیں جیسے کہ یہ دنیا ہمارا ابدی گھر ہو۔

پھر بھی کلام مقدس بیان کرتا ہے کہ ہمارے ابدی مستقبل کی حقیقت کو ہماری موجودہ زندگی کے کردار پر غلبہ حاصل ہونا چاہئے اور ہمیں ان الفاظ کا خیال رکھنا چاہئے جو ہم بولتے ہیں اوروہ کام جو ہم کرتے ہیں۔

(یقعوب باب 2 آیت 12 ، پطرس باب 3 آیات 11 اور 12) 

آئیے اپنے آپ کو آج بلکہ ہر روز "اصل بات" کو یاد رکھنا یقینی بنائیں۔ ہر روز یاد رکھنے والے چھ ابدی حقائق یہ ہیں۔

1

ابدی منزلیں صرف دو ہیں - جنت یا جہنم - اور میں اور ہر وہ شخص جسے ہم جانتے ہیں ان دونوں میں سے کسی ایک جگہ میں جائیگا۔

تنگ دروازہ سے داخِل ہو کیونکہ وہ دروازہ چَوڑا ہے اور وہ راستہ کُشادہ ہے جو ہلاکت کو پُہنچاتا ہے اور اُس سے داخِل ہونے والے بُہت ہیں۔ کیونکہ وہ دروازہ تنگ ہے اور وہ راستہ سُکڑا ہے جو زِندگی کو پُہنچاتا ہے اور اُس کے پانے والے تھوڑے ہیں۔  (لُوقا باب 7، آیات 13 اور 14)

جنت اور جہنم دونوں زمین کو چھوتے ہیں - ایک درمیانی دنیا جو براہ راست ایک طرف یا دوسرے کی طرف لے جاتی ہے۔

زمین پر زندگی کا بہترین حصہ جنت کی ایک جھلک کی طرح ہوتا ہے اور بدترین حصہ جہنم کی ایک جھلک کی طرح۔

مسیحیوں کے لیے یہ موجودہ زندگی اس کے قریب ترین ہے کہ وہ دوزح کی طرح لگے ۔ غیر ایمانداروں کے لیے، یہ سب سے قریب ہے کہ وہ جنت کی طرح لگے۔

انتخاب کرنے کی حقیقت جو اس زندگی میں ہمارے سامنے ہے وہ شاندار بھی ہے اور خوفناک بھی۔ ہماری دو ممکنہ منزلوں کی یقین دہانی کے پیش نظر، کیا ہر شخص کو جہنم سے بچنے اور جنت میں جانے کے لیے کوئی بھی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہونا چاہیے؟ اور وہ قیمت پہلے ہی ادا کر دی گئی ہے.

کلام  کہتا ہے کہ ’’تم قیمت دے کر خریدے گئے ہو‘‘ (1 کرنتھیوں باب 6 ، آیت 20)۔ ادا کی گئی قیمت بہت زیادہ تھی جس کو خدا کے بیٹے یسوع مسیح نے اپنا  خون بہا کر ادا کیا۔

اس بات کی حیرت پر غور کریں: کہ خدا نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ہمارے بغیر جنت میں رہنے کے بجائے ہماری جگہ جہنم میں جائے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم جہنم میں نہ جائیں اس لیے اس نے صلیب پر ایک خوفناک قیمت ادا کی تاکہ ہمیں کوئ قیمت ادا کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔

تمام راستے جنت کی طرف نہیں جاتے۔ صرف ایک راستہ وہاں جاتا ہے اور وہ ہے: یسوع مسیح۔ اُس نے کہا، ’’کوئی میرے وسِیلہ کے بغَیر باپ کے پاس نہیں آتا۔‘‘ (یوحنا باب 14 ، آیت 6)

باقی تمام راستے جہنم کی طرف جاتے ہیں۔ جہنم کی حقیقت کو ہمارے دلوں کو ہلا دینا  چاہیے اور ہمیں گھٹنوں کے بل  ہو جانا چاہیے اور مسیح سے دور لوگوں تک پہنچ کر ان کو سچ سے آگاہ کرنا چاہیے۔

2

یہ دنیا (جیسا کہ اب  نطر آتی ہے) یہ میرا گھر نہیں ہے اور اس میں موجود ہر چیز جل جائے گی، وہی رہ جائے گا جو ابدی ہوکا۔

اُس دِن آسمان بڑے شور و غُل کے ساتھ برباد ہو جائیں گے اور اَجرامِ فلک حرارت کی شِدّت سے پِگھل جائیں گے اور زمِین اَور اُس پر کے کام جَل جائیں گے۔ جب یہ سب چِیزیں اِس طرح پِگھلنے والی ہیں تو تُمہیں پاک چال چلن اور دِین داری میں کَیسا کُچھ ہونا چاہئے۔ اور خُدا کے اُس دِن کے آنے کا کَیسا کُچھ مُنتظِر اور مُشّتاق رہنا چاہئے۔

 2 پطرس باب 3 ، آیات 10 تا 12

ہمارے گناہ سے زمین کو نقصان پہنچا ہے (پیدائش 3 باب ، آیت 17)۔ لہذا، زمین جیسی اب ہے (لعنت کے تحت) اس حساب سے یہ ہمارا گھر نہیں ہے۔ دنیا جیسی لنعت سے پہلے تھی، اور جیسی ہوگی، وہ ہمارا گھر ہوگا۔ ہم اس زندگی میں مسافر ہیں، اس لیے نہیں کہ ہمارا گھر زمین پر کبھی نہیں ہے، بلکہ اس لیے کہ ہمارا ابدی گھر فی الحال زمین پر نہیں ہے۔ یہ پہلے تھا اور آگے ہوگا، لیکن یہ ابھی ہمارا گھر نہیں ہے۔

خدا کہتا ہے کہ یہ موجودہ زمین آگ سے بھسم ہو جائے گی (2 پطرس باب 3، آیت 10)۔ پولس کہتا ہے کہ خدا کی پاکیزگی کی آگ جو کچھ بھی ہم نے دنیا میں کیا ہے وہ لکڑی، گھاس اور بھوسے کی طرح بھسم کر دے گی۔ لیکن وہ ہمیں بتاتا ہے کہ ایسی چیزیں جو آگ سے بچ جائیں گی اور نئے آسمان اور نئی زمین میں چلی جائے گی — سونے، چاندی اور قیمتی پتھروں کے کام (1 کرنتھیوں باب 3 ، آیت 12)۔

ابد تک کیا رہے گا؟ نہ آپ کی گاڑی، نہ گھر،نہ ڈگریاں۔ نہ ٹرافیاں یا کاروبار. جو چیز ابد تک رہے گی وہ ہیں کسی ضرورت مند کی خدمت کرنا، بھوکوں کو کھانا کھلانے کے لیے دیا جانے والا ہر روپیہ ، کسی پیاسے کو ٹھنڈا پانی پلانا، خدا کی خدمت کے لیے ہدیہ دینا، کسی ضرورت مند کے لیے دعا کرنا، انجیلی بشارت میں کوشش کرنا، اور ہر لمحہ بچوں کی دیکھ بھال کرنا ، بشمول انہیں سونے کے لیے جھولانا اور ان کے لنگوٹ تبدیل کرنا۔ بائبل کہتی ہے کہ ہم ابدیت کے لیے وہی کاٹیں گے جو ہم نے اس زندگی میں بویہ ہوگا (گلتیوں 6 باب ، آیات 7 تا 8)۔

3.

اس زندگی میں میرے انتخابات اور اعمال کا اس دنیا میں اور آنے والی زندگی پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔  دیکھ مَیں جلد آنے والا ہُوں اور ہر ایک کے کام کے مُوافِق دینے کے لِئے اَجر میرے پاس ہے۔ مکاشفہ باب 22 ، آیت 12

ہم اس زندگی میں جو کچھ کرتے ہیں وہ ابدی اہمیت کا حامل ہے۔ آپ اور مجھے کبھی بھی ایک اور موقع نہیں ملے گا کہ دعا کے ذریعے خدا سے مدد مانگیں تاکہ ایک تکلیف دہ روح کو ٹھیک کیا جا سکے، مسیح کی باتیں کسی ایسے شخص کے ساتھ  کرکے اسے جہنم سے بچا سکتے، بیماروں کی دیکھ بھال کر سکتے، بھوک سے مرنے والوں کو کھانا فراہم کرسکتے، مرنے والوں کو تسلی دے سکتے ، غیر پیدائشی بچوں کو بچا سکتے، کام کا ترجمہ کرسکتے، انجیل کو دور دراز لوگوں تک پہنچا سکتے، خدا کی بادشاہی کو آگے بڑھا سکتے، اپنے گھروں کو کھول سکتے، یا غریبوں اور ضرورت مندوں کے ساتھ اپنے کپڑے اور کھانا بانٹ سکتے۔

جب ہم آج کے دن کو آنے والے کل کی روشنی میں دیکھتے ہیں تو ہمارے چھوٹے انتخابات بہت اہم ہو جاتے ہیں۔ چاہے میں آج اپنی بائبل پڑھوں، دعا کروں، گرجہ گھر جاؤں، اپنے عقیدے کو بانٹوں، اور ہدیہ دوں۔ میرے جسم سے نہیں بلکہ اُس کی روح کے ذریعے احسان مندانہ طور پر اختیار کیے گئے اعمال، نہ صرف دوسروں کی روحوں کے لیے، بلکہ میرے اپنے لیے بھی ابدی نتیجے کے ذمہ دار ہیں۔

4.

میری زندگی کو خُدا، سامعین کے ذریعے جانچ جا رہا ہے، اور میری زندگی کی واحد تشخیص جو آخر کار اُس کی ہی ہے۔

پس ہم میں سے ہر ایک خُدا کو اپنا حِساب دے گا۔ (رومیوں باب 14 ، آیت 12)

اپنے آپ سے پوچھیں کہ کیا آپ اس ثقافت کی منظوری کے لیے جی رہے ہیں، یا یسوع کی منظوری کے لیے۔ پھر آپ اپنے آپ سے پوچھیں، کہ "اختتام پر آپ کس   کے سامنے عدالت میں کھڑے ہوں گیں؟

ہمیں خدا کے لوگوں کے سامنے اپنی زندگی گزارنا ہے۔ خدا کی منظوری اہم ہے۔ اگر ہمارا مقصد دوسروں کو یہ کہتے ہوئے سننا ہے، "شاباش" ، اس طرح ہم وہ نہیں کر رہے جو ہمیں کرنا چاہیے جس سے خدا خود ہم سے کہتا کہ "شاباش"۔

سوال یہ نہیں ہے کہ ہمیں بیوقوف کے طور پر دیکھا جائے گا - یہ حصہ یقینی ہے - لیکن سوال یہ ہے ہم کب اور کس کے سامنے احمق نظر آئیں گے۔ خدا کے لوگوں کی نظروں میں ہمیشہ کے لیے بے وقوف کے طور پر دیکھے جانے سے بہتر ہے کہ ابھی دوسرے لوگوں کی نظروں میں—بشمول دوسرے مسیحیوں— کی نظروں میں ہم احمقوں کے طور پر دیکھے جائیں۔

5۔ 

خدا قادر مطلق ہے، اور میں اس بات پر بھروسہ کر سکتا ہوں کہ وہ میری زندگی میں سب سے زیادہ مشکل چیزوں میں بھلائ کا کام کر رہا ہے

اور ہم کو معلُوم ہے کہ سب چِیزیں مِل کر خُدا سے مُحبّت رکھنے والوں کے لِئے بھلائی پَیدا کرتی ہیں یعنی اُن کے لِئے جو خُدا کے اِرادہ کے مُوافِق بُلائے گئے۔

 رومیوں باب 8، آیت 28

ایک ایسی دنیا میں جو دکھوں اور برائیوں کے تحت کراہ رہی ہے، خُدا کی بنیادی خواہش اپنے بچوں کو مسیح کی صورت کے مطابق بنانا ہے۔

اور وہ ہماری زندگیوں کے مشکل حالات کے ذریعے کام کرتا ہے تاکہ ہماری مسیح کی طرح بننے میں مدد ہو سکے۔

ایک ایسی دنیا میں جو دکھوں اور برائیوں کے تحت کراہ رہی ہے، خُدا کی بنیادی خواہش اپنے بچوں کو مسیح کی صورت کے مطابق بنانا ہے۔

اور وہ ہماری زندگیوں کے مشکل حالات کے ذریعے کام کرتا ہے تاکہ مسیح کی طرح بننے میں ہماری مدد ہو سکے۔

ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اس نے ہماری زندگیوں میں جو بھی مشکل آنے کی اجاذت دی ہے وہ خدا کی دانائ اور محبت سے ہمیں سکھانے کا طریقہ ہے ۔

شاید اس بات کا سب سے بڑا امتحان کہ آیا ایماندار ہوتے ہوۓ ہم رومیوں باب 8 ، آیت 28 کی سچائی پر یقین رکھتے ہیں، اس میں ان سب سے بری چیزوں کی نشاندہی کرنا ہے جو ہمارے ساتھ پیش آئی ہیں، پھر یہ پوچھنا ہے کہ کیا ہمیں یقین ہے کہ خدا آخر کار ان چیزوں کو ہماری بھلائی کے لیے استعمال کرے گا۔

بائبل اس بات پر زور دیتی ہے کہ وہ ایسا کرے گا۔ ہمارے پاس یہ سوچنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ اس کے بارے میں کسی دوسرے وعدے کو پورا کرنے کے مقابلے میں کم قابل اعتماد ہو گا جو وعدہ اس نے کیا ہے۔ ایمان سے آئیے آج اس پر بھروسہ کرتے ہیں کہ ابدیت میں ہم پیچھے مڑ کر دیکھیں گے، ماضی میں، کیسے رومیوں 28:8 بالکل سچ تھا!

6.

میرا حتمی گھر نئی زمین ہو گی، جہاں میں خدا کو دیکھوں گا اور اس سے خوش ہوں گا اور ایک نجات یافتہ انسانی معاشرے میں ایک نجات یافتہ فرد کے طور پر خدا کی خدمت کروں گا۔

لیکن اُس کے وعدہ کے مُوافِق ہم نئے آسمان اور نئی زمِین کا اِنتِظار کرتے ہیں جِن میں راست بازی بسی رہے گی۔ (2 پطرس باب 3، ایت 13)

کیا مُردوں میں سے جی اُٹھنے والے مسیح اور دنیا میں موجود نجات یافتہ لوگوں کے ساتھ زندگی گزارنا آپ کی روز مرہ کی خواہش اور اُمید ہے؟ کیا یہ انجیل کا حصہ ہے جسے آپ دوسروں تک پہنچاتے ہیں؟

پولس کہتا ہے کہ مُردوں میں سے جی اُٹھنا وہ اُمید ہے جس کے مطابق ہم بچائے گئے تھے۔ یہ خُدا کی نجات کے کام کا شاندارعروج ہو گا جو ہماری تخلیق نو پر شروع ہوا تھا۔ یہ ہمارے تمام گناہوں کے آخری انجام کی نشان دہی کرے گا جو ہمیں خدا سے جدا کرتے ہیں۔    

ہمیں گناہ اور اس کے تمام نتائج سے نجات دلانے میں، مسیح کا جی اٹھنا ہمیں خُدا کے ساتھ رہنے، اُس پر نگاہ کرنے، اور اُس کی بلا روک ٹوک رفاقت سے ہمیشہ کے لیے لطف اندوز ہونے کے لیے آزاد کر دے گا، اس خطرے کے بغیر کہ ہمارے اور اُس کے درمیان دوبارہ کوئی چیز کبھی آئے گی۔

 

Six Eternal Truths to Remember Each Day

A startling thing has happened among modern Christians in the western world. Many of us habitually think and act as if there is no eternity—or, as if what we do in this present life has no bearing on eternity. 

The trend today is to focus not on our eternal future (who cares about the “sweet bye and bye”?) but our present circumstances, as if this world were our home. Yet Scripture states the reality of our eternal future should dominate and determine the character of our present life, right down to the words we speak and the actions we take (James 2:12; 2 Peter 3:11–12).

Let’s be sure to remind ourselves today—and every day—of “the real thing.” Here are six eternal truths to remember:

1. There are only two eternal destinations—Heaven or Hell—and I and every person I know will go to one or the other.

Enter through the narrow gate. For wide is the gate and broad is the road that leads to destruction, and many enter through it.  But small is the gate and narrow the road that leads to life, and only a few find it (Matthew 7:1314).

Both Heaven and Hell touch Earth—an in-between world leading directly into one or the other. The best of life on Earth is a glimpse of Heaven; the worst of life is a glimpse of Hell. For Christians, this present life is the closest they will come to Hell. For unbelievers, it is the closest they will come to Heaven.

The reality of the choice that lies before us in this life is both wonderful and awful. Given the certainty of our two possible destinations, shouldn’t every person be willing to pay any price to avoid Hell and go to Heaven? And yet, the price has already been paid. “You were bought at a price” (1 Corinthians 6:20). The price paid was exorbitant—the shed blood of God’s Son, Jesus Christ.

Consider the wonder of it: God determined that He would rather go to Hell on our behalf than live in Heaven without us. He so much wants us not to go to Hell that He paid a horrible price on the cross so that we wouldn’t have to.

All roads do not lead to Heaven. Only one does: Jesus Christ. He said, “No one comes to the Father except through me” (John 14:6). All other roads lead to Hell. The reality of Hell should break our hearts and take us to our knees and to the doors of those without Christ. 

2. This world (as it is now) is not my home and everything in it will burn, leaving behind only what’s eternal.

The heavens will disappear with a roar; the elements will be destroyed by fire, and the earth and everything done in it will be laid bare. Since everything will be destroyed in this way, what kind of people ought you to be? You ought to live holy and godly lives as you look forward to the day of God and speed its coming (2 Peter 3:1012).

Earth has been damaged by our sin (Genesis 3:17). Therefore, the earth as it is now (under the Curse) is not our home. The world as it was, and as it will be, is our home. We are pilgrims in this life, not because our home will never be on Earth, but because our eternal home is not currently on Earth. It was and it will be, but it’s not now.

God says this present earth will be consumed by fire (2 Peter 3:10). Paul says the fire of God’s holiness will consume whatever we’ve done that amounts to wood, hay, and straw. But he tells us there’s something that will survive the fire and go right into the new heavens and new earth—works of gold, silver, and precious stones (1 Corinthians 3:12).

What will last for eternity? Not your car, house, degrees, trophies, or business. What will last for eternity is every service to the needy, every dollar donated to feed the hungry, every cup of cold water given to the thirsty, every investment in missions, every prayer for the needy, every effort spent in evangelism, and every moment caring for precious children—including rocking them to sleep and changing their diapers. The Bible says we’ll reap in eternity what we’ve planted in this life (Galatians 6:7–8).

3. My choices and actions in this life have a direct influence on the world and the life to come.

Behold, I am coming soon, bringing my recompense with me, to repay everyone for what he has done (Revelation 22:12).

What we do in this life is of eternal importance. You and I will never have another chance to move the hand of God through prayer to heal a hurting soul, share Christ with one who can be saved from hell, care for the sick, serve a meal to the starving, comfort the dying, rescue the unborn, translate the Scriptures, bring the gospel to an unreached people group, further God’s kingdom, open our homes, or share our clothes and food with the poor and needy.

When we view today in light of the long tomorrow, the little choices become tremendously important. Whether I read my Bible today, pray, go to church, share my faith, and give my money—actions graciously empowered not by my flesh but by His Spirit—is of eternal consequence, not only for other souls, but for mine.

4. My life is being examined by God, the Audience of One, and the only appraisal of my life that will ultimately matter is His.

So then each of us will give an account of himself to God (Romans 14:12).

Ask yourself whether you are living for the approval of this culture, or for the approval of Jesus. Then ask yourself, “In the end whose judgment seat will I stand before?” We are to live out our lives before the Audience of One. His approval is the one that matters. If our goal is to hear others say, “Well done,” we won’t do what we need to do to hear Him say it.

We should remind ourselves of what the Bible says about being fools for Christ (1 Corinthians 1:18–31; 4:8-13). The question is not whether we will be seen as fools—that part is certain—but when and to whom we will be seen as fools. Better to be seen as fools now in the eyes of other people—including other Christians—than to be seen as fools forever in the eyes of the Audience of One.  

5. God is sovereign, and I can trust that He is working all things—including the most difficult things—in my life together for good.

And we know that for those who love God all things work together for good, for those who are called according to his purpose (Romans 8:28).

In the midst of a world that groans under suffering and evil, God’s main concern is conforming His children to the image of Christ. And He works through the challenging circumstances of our lives to help develop that Christlikeness in us. We can be assured that whatever difficulty He has allowed in our lives has been Father-filtered, through His fingers of wisdom and love.

Perhaps the greatest test of whether we who are Christ’s follow­ers believe the truth of Romans 8:28 is to identify the very worst things that have ever happened to us, then to ask whether we believe God will in the end somehow use those things for our good. The Bible is emphatic that He will. We have no reason to think He’ll be any less trustworthy concerning this than with any other promise He has made. By faith let’s trust Him today that in eternity we’ll look back and see, in retrospect, how Romans 8:28 was absolutely true!

6. My ultimate home will be the New Earth, where I will see and enjoy God and serve Him as a resurrected being in a resurrected human society.

But according to his promise we are waiting for new heavens and a new earth in which righteousness dwells (2 Peter 3:13).

Is resurrected living in a resurrected world with the resurrected Christ and his resurrected people your daily longing and hope? Is it part of the gospel you share with others? Paul says that the resurrection of the dead is the hope in which we were saved. It will be the glorious climax of God’s saving work that began at our regeneration. It will mark the final end of any and all sin that separates us from God. In liberating us from sin and all its consequences, the resurrection will free us to live with God, gaze on Him, and enjoy His uninterrupted fellowship forever, with no threat that anything will ever again come between us and Him.

Photo by SB Productions on Unsplash

 

Randy Alcorn (@randyalcorn) is the author of fifty-some books and the founder and director of Eternal Perspective Ministries