زندگی کی دوڑ میں آسمانی حوصلہ افزائی (Heavenly Encouragement in the Race of Life)

مصنف: رینڈی ایلکورن  ( Author: Randy Alcorn )

مترجم: گوہر الماس      ( Translator: Gohar Almas )

جس طرح یہ دنیا ہے اور جس طرح سے ہم اس میں رہ رہے ہیں، تو یہاں زندگی گزارنا مشکل ہو سکتا ہے، کیا ایسا نہیں ہے؟ جب آپ کسی عزیز کو کھو دیتے ہیں، جب آپ کی صحت خراب ہوتی ہے، یا جب آپ کے خواب، آپ کا خاندان، کیریئر، یا زندگی بھر کے منصوے ٹوٹ جاتے ہیں تو آپ کا بوجھ، حوصلہ شکنی، افسردہ، یا یہاں تک کہ صدمے کا شکار ہونا آسان ہوتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ آپ ایک تنقید کرنے والے بن جائیں یا آپ اپنی امید کھو دیں۔ زندگی میں ایسے حالات بھی آسکتے ہیں جو عجیب موڑ، ڈھلوان اور خطرناک انجام کی طرح لگتے ہے۔  

خدا ہم میں سے ہر ایک کو دوڑنے کا موقع دیتا ہے۔ دوڑ کو اچھی طرح ختم کرنے کے لیے ہمیں ثابت قدم بننا ہوگا۔ مسیحی زندگی سو گز کی دوڑ نہیں بلکہ ایک بہت لمبی دوڑ ہے، جس میں صبر، برداشت اور نظم و ضبط کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن ہم اپنی دوڑ کو اچھی طرح سے پورا کرنے کے لیے طاقت کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟

جنت ہماری جیت کی لکیر ہے

جب پولس رسول کو سختی، مار پیٹ اور قید کا سامنا کرنا پڑا تو اس نے یہ کہا،

 بلکہ صِرف یہ کرتا ہُوں کہ جو چِیزیں پِیچھے رہ گئِیں اُن کو بُھول کر آگے کی چِیزوں کی طرف بڑھا ہُؤا۔ نِشان کی طرف دَوڑا ہُؤا جاتا ہُوں تاکہ اُس اِنعام کو حاصِل کرُوں جِس کے لِئے خُدا نے مُجھے مسِیح یِسُوعؔ میں اُوپر بُلایا ہے۔" فِلِپّیوں باب 3، آیات 13-14

کس چیز نے پولس کو مقصد کی طرف بڑھنے کی طاقت اور نقطہ نظر دیا؟ یعنی جنت کا صاف نظارہ۔

ایک مطالعہ کیا گیا تھا جس میں اسرائیلی فوجیوں کے ایک گروہ کو بتایا گیا تھا کہ وہ مارچ پر جائیں گے لیکن انہیں یہ نہیں بتایا گیا کہ مارچ آخر کب ختم ہو گی۔ لیکن ایک اور گروپ کو مارچ کا دورانیہ بتایا گیا۔

دونوں گروہوں نے جو دباؤ محسوس کیا ان کے ردعمل کو جانچا گیا۔ اگرچہ انہوں نے دوسرے گروپ میں شامل افراد کے مقابلے میں ایک فٹ بھی آگے مارچ نہ کی، لیکن وہ لوگ جو نہیں جانتے تھے کہ مارچ کب ختم ہو گی ان میں ذہنی دباؤ دوسروں سے ذیادہ تھا ۔ کیوں؟ کیونکہ وہ بے بس، ناامید ہوکر یہ سوچ رہے تھے کہ کیا انہیں کبھی آرام کرنے کا موقع ملے گا۔

ہم بالکل نہیں جانتے کہ کب تک لیکن مسیح کے پیروکاروں کے طور پر ہم یہ جانتے ہیں کہ ایک آخری لکیر ہے جہاں تک ہم نے بھاگنا ہے۔ ہم ہمیشہ کے لیے بھاگتے نہیں رہیں گے۔ درحقیقت ہم آرام کریں گے۔

اس کے بارے میں سوچیں: یسوع نے اپنی ناقابل فہم قیمت ادا کرکے ہمارے لیے ایک خوش کن انجام خریدا۔ ایک خوش کن "اختتام" جو کبھی ختم نہیں ہوگا۔ مسیح کے ساتھ ایک نئی زمین پر اپنے مستقبل کے بارے میں امید کرنا جو ہمیں ایک مشکل شادی میں ثابت قدم رہنے، بیمار والدین یا بچوں کی دیکھ بھال کرنے ، مشکل کام کے ساتھ وفادار رہنے، یا کسی ضروری کام کرنے میں قائم رہنے کی طاقت دے سکتا ہے۔

سیموئیل ردرفورڈ نے لکھا، "ہمارے دکھ کا تھوڑا سا وقت جنت میں ہماری پہلی رات کے استقبال کے مقابلے میں بھی کچھ بھی نہیں ہے۔"

سیموئیل ردرفورڈ نے لکھا، "ہمارے دکھ کا تھوڑا سا وقت جنت میں ہماری پہلی رات کے استقبال کے مقابلے میں بھی کچھ بھی نہیں ہے۔" اگر آپ اس پر یقین رکھتے ہیں، تو آپ اس زندگی سے شدت سے جڑے نہیں رہیں گے۔ آپ کی امید آپ کو اس وقت ثابت قدم رہنے میں طاقت دے گی جب حالات مشکل ہوں۔ اور پھر آپ اپنا چہرہ اوپر اٹھائیں گے، اپنے بازو پھیلائیں گے، اور آنے والی اپنی عظیم زندگی کی توقع میں دوڑتے رہیں گے۔ (مجھے یہاں خودکشی کا ذکر کرنا چاہیے کیونکہ یہ سوچ کچھ لوگوں کو مائل کرتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جنت بہت شاندار ہوگی لیکن اس سے ہمیں آخری منزل تک پہنچنے کے لیے شارٹ کٹس اختیار کرنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔ جب تک خدا آپ کو زمین پر رکھنا چاہے تو یہ بالکل وہی جگہ ہے جہاں وہ آپ کو رکھنا چاہتا ہے۔)

ہمارا نجات دہندہ انتظار کر رہا ہے

ہمارا نجات دہندہ انتظار کر رہا ہے عبرانیوں 12:1 ہمیں بتاتا ہے "اُس دَوڑ میں صبر سے دَوڑیں جو ہمیں دَرپیش ہے"۔ اس سے یونانی مقابلوں کی ذہنی تصویر سامنے آتی ہے، جنہیں قدیم اسٹیڈیموں میں اونچی اونچی جگہ بیٹھے مگن ہوۓ شائقین کی بڑی تعداد نے غور سے دیکھا۔ "گواہوں کے عظیم بادل" سے مراد وہ مقدسین ہیں جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں، جن کی زندگی کے کھیل کے میدان کے کارنامے اب ہماری بھرپور تاریخ کا حصہ ہیں۔  

منظر کشی یہ بھی تجویز کر سکتی ہے کہ خدا کے وہ لوگ، جو قدیم زمانے کے روحانی "کھلاڑی" اب ہمیں آسمان کے عظیم اسٹیڈیم سے دیکھ رہے ہیں اور اس پرخوش ہو رہے ہیں جو زمین کے میدان میں نظر آتا ہے۔

عبرانیوں کا مصنف ہمیں یہ نصیحت کرتا ہے کہ "اپنی نظریں یسوع پر رکھیں، جو ایمان کا بانی اور کامل ہے۔ اُس خوشی کے لیے جو اُس کے سامنے رکھی گئی تھی، اُس نے شرمندگی کو ٹھکرا کر صلیب کو برداشت کیا، اور خُدا کے تخت کے دہنے ہاتھ پر بیٹھ گیا۔ مندرجہ ذیل آیت ہمیں ایک حکم دیتی ہے: "پس اُس پر غَور کرو جِس نے اپنے حق میں بُرائی کرنے والے گُنہگاروں کی اِس قدر مُخالِفت کی برداشت کی تاکہ تُم بے دِل ہو کر ہِمّت نہ ہارو"۔ عبرانیوں 3:12

جان پائپر ان آیات کے بارے میں کچھ لکھتے ہیں، ''لیکن ہم دوڑتے ہوئے بزرگوں کی طرف نہیں دیکھتے۔ ہمارا اصل دھیان سیدھا یسوع کی طرف ہوتا ہے۔ اس نے انسانی زندگی کی اسی دوڑ کو مکمل کیا۔ لیکن اس نے کبھی گناہ نہیں کیا، اور اس لیے اس کی دوڑ کامل تھی۔ جب اس نے اپنی دوڑ ختم کی تو اس نے ہماری نجات کو مکمل کردیا۔ لہٰذا ہم اپنے ایمان کے بانی اور تکمیل کرنے والے یسوع کی طرف دیکھتے ہوئے دوڑتے ہیں۔

یسوع مسیح جو ہماری نجات کی چٹان ہے اس نے ان لوگوں کے لیے ایک جگہ تیار کرنے کا وعدہ کیا ہے جو اپنی امید اس پر رکھتے ہیں، ایک ایسی جگہ جہاں وہ ہمیشہ اس کے ساتھ رہیں گے۔ اگر ہم اپنی نگاہیں یسوع پر رکھنا سیکھ لیں، اور ہم اپنے ذہن میں اپنے ابدی گھر کی تصویر بنا سکیں تو یہ ہمیں تسلی اور توانائی بخشے گا اور یہ ہمیں اس آخری لکیر کا واضح نظارہ دے گا۔ اور اگر ہم نے یہاں اس کی خدمت کی ہوگی تو وہاں ہمارا استقبال شاندار ہو گا  

مارک بکانن نے اپنی کتاب میں جسکا ترجمہ "نظر نہ آنے والی چیزیں" ہے، اس میں مسیحیوں کی زندگی کی دوڑ اور یسوع کے کردار کو بیان کیا گیا ہے جو ہمیں حوصلہ دیتا ہے: "آپ جنت کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپ بے صبری سے ایک نجات دہندہ کا انتظار کر رہے ہیں جو بدلے میں آپ کا بے تابی سے انتظار کر رہا ہے۔ آپ کے ساتھ لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے، جو آپ اور آپ کے نجات دہندہ کے ہر عمل کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ خدا آپ کو دوڑ مکمل کرنے کے لیے فضل دیتا ہے۔ جب آپ ٹھوکر کھاتے ہیں، تھک جاتے ہیں، گر جاتے ہیں، ہمت ہار جاتے ہیں تو وہ مزید فضل نازل کرتا ہے۔ وہ کھڑا ہے جب کہ وہ تمام لوگ جنہوں نے سڑک کی لکیر سے گزر کر اپنی دوڑ مکمل کر لی ہے وہ بہت خوش ہو رہے ہیں، خُدا نے پرجوش استقبال، پرجوش مبارکباد کے ساتھ اپنے بازو پھیلائے ہیں۔"

میں تصور کرتا ہوں کہ میں اپنے گھٹنوں پر ہوں اور یسوع کو دیکھ رہا ہوں اور وہ مجھ تک پہنچ رہا ہے اور وہ میرا ہاتھ پکڑ کر اٹھا رہا ہے۔ یہ سوچنا کہ وہ صرف ایک بار نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے میرا استقبال کریگا، یہ ایک حیرت انگیز خوشی ہے۔

اپنی آنکھیں بند کریں اور تصور کریں جب آپ زندگی کی آخری لکیر کو عبور کرتے ہیں اور آپ یسوع کو دیکھ رہے ہوتے ہیں اور وہ آپ کو اپنی بانہوں میں لے رہا ہوتا ہے۔ کیا شاندار سوچ ہے!

ابدی اجر کا وعدہ

اپنے نجات دہندہ کو دیکھنے کی امید ہی صرف ہمیں آگے نہیں لے جائے گی۔ اس میں خُدا کو خوش کرنا بھی شامل ہے۔ یسوع نے ان لوگوں کے لیے اجر کا وعدہ کیا ہے جنہوں نے پوری وفاداری سے اس کی خدمت کی ہے۔

دیکھ مَیں جلد آنے والا ہُوں اور ہر ایک کے کام کے مُوافِق دینے کے لِئے اَجر میرے پاس ہے۔ مُکاشفہ باب 22 ، آیت 12

موسیٰ خُدا کے ساتھ وفادار رہا کیونکہ ’’وہ اپنے اجر کا منتظر تھا‘‘ (عبرانیوں باب 11، آیت 26

 اسی طرح، پولس نے جنت کے انعام پر نظر رکھتے ہوئے اپنی دوڑ مکمل کی جس نے اسے مشکل اور لمبی دوڑ لگانے کی طاقت دی۔ وہ ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہوا بلکہ وہ ابدی اجر کی امید میں حوصلہ افزائی پاتا تھا، بلکہ اسے آزادانہ اور کثرت سے تسلیم بھی کرتا تھا۔

(1 کرنتھیوں باب 9، آیات 24-25؛ 2 کرنتھیوں باب 4، آیات 16-18؛ 2

کرنتھیوں باب 5، آیات 9-10؛2

تیمتھیس باب 4، آیات 7-8)۔

اس نے کہا "اس طرح بھاگو جیسے تم انعام حاصل کرنا ہو" اور موت کے دہانے پر اس نے اس خاص تاج کے بارے میں تڑپ کے ساتھ کہا کہ منصف اسے جنت میں دے گا۔ اُس نے اِن الفاظ کے ساتھ ایمانداروں کی حوصلہ افزائی کی: "ہم نیک کام کرنے میں ہِمّت نہ ہاریں کیونکہ اگر بے دِل نہ ہوں گے تو عَین وقت پر کاٹیں گے" گلتِیوں باب 6 ، آیت 9

یسوع ہمیں بتاتا ہے کہ ایک دن اس کے وفادار نوکر اپنے مالک کو یہ کہتے ہوئے سنیں گے۔  اَے اچّھے اور دِیانت دار نَوکر شاباش! تُو تھوڑے میں دِیانت دار رہا۔ مَیں تُجھے بُہت چِیزوں کا مُختار بناؤں گا۔ متی باب 25 ، آیت 23  

' اَے اچّھے اور دِیانت دار نَوکر شاباش ' ان ناقابل یقین الفاظ کے بارے میں سوچو: آپ کو انہیں یاد کریں۔ یہ وہ الفاظ ہیں جنہیں ہم سننا چاہتے ہیں، وہ الفاظ جن کو سننے کے لیے ہمیں پیدا کیا گیا ۔

آپ کو آج شروع کرنے کے لیے کن چیزوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے تاکہ آپ ایک دن خدا کی طرف سے ان الفاظ کو سن سکیں؟ اگر آپ ابھی تک یسوع کو نہیں جانتے تو زیادہ دیر نہیں ہوئی۔ اپنے گناہوں کا اعتراف کریں اور اپنے فدیے کی قربانی کے اجر کو عاجزی سے قبول کریں۔ اگر آپ اسے جانتے ہیں تو اپنے روزمرہ کے فیصلے اپنی منزل کو مدنظر رکھتے ہوۓ کریں۔ خدا کے فضل سے موجودہ زمین پر باقی ماندہ وقت کو اس طرح استعمال کریں تاکہ نئی زمین پر اپنے لیے خزانے جمع کریں اور وہ خزانہ مسیح کے جلال کے لیے مسیح کے قدموں میں رکھا جائے (مکاشفہ باب 4، آیت 10)۔ اس کی تعظیم کے لیے اپنی زندگی کی دوڑ لگاتے رہو۔

آپ سوچتے ہیں کہ کیا آپ نے کوئی ایسا کام کیا ہے جس کے لیے خُدا آپ کو اجر دے سکتا ہے، تو ہمیں 1 کرنتھیوں باب 4، آیت 5 سے حوصلہ افزائی ملنی چاہیے جو عدالت کے بارے میں بات کرتی ہے جہاں لکھا ہے ' اُس وقت ہر ایک کی تعرِیف خُدا کی طرف سے ہو گی'۔ وہ آپ کو اجر ضرور دے گا تو کیا آپ اس کے لیے مزید نیک کام کرنے کی کوشش کریں گے؟

جب ہم یسوع کو یہ کہتے ہوئے سنتے ہیں کہ " شاباش" تو ہم جان لیں گے کہ ہم نے جو بھی قربانی دی یا ہمارے راستے میں آنے والی کوئی بھی مشکل کچھ بھی نہیں تھی۔ اسی طرح ہم مصیبت میں بھی خوش ہو سکتے ہیں جیسے اولمپکس کے کھلاڑی  ورزش کرتے ہوئے خوش ہوتے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ ہمیں یہ آسان لگتا ہے، بلکہ اس لیے کہ ہم جانتے ہیں کہ اس کا نتیجہ ایک دن بہت بڑا اجر ہوگا۔

وہ نئی طاقت دیتا ہے

بہت سے لوگ یسعیاہ باب 40 آیت 31 کے خوبصورت وعدے سے واقف ہوں گے۔

لیکن خُداوند کا اِنتظار کرنے والے ازسرِ نَو زور حاصِل کریں گے۔ وہ عُقابوں کی مانِند بال و پر سے اُڑیں گے، وہ دَوڑیں گے اور نہ تھکیں گے۔ وہ چلیں گے اور ماندہ نہ ہوں گے۔

جونی ایریکسن ٹاڈا اس آیت کے بارے میں لکھتے ہیں:

مسیحی زندگی کا آغاز پُرجوش تھا: بہت سی مسکراہٹیں اور ملاقاتیں اور حوصلہ افزائی۔ آپ کے جذبات میں اضافہ ہوا۔ اور آخر؟ درحقیقت، یسوع سے آمنے سامنے ملنا شاندار ہو گا۔ لیکن اب آپ درمیان میں ہیں۔ آپ کے پیچھے میلوں کا لمبا سفر تھا اور آپ کے سامنے میلوں کا سفر ہے۔ آپ کو کوئی خوشی یا تالیاں نہیں سنائی دیتی ہیں۔ آپ کو صرف ایک تھکے ہوئے پاؤں کو آگے بڑھانے کا آپ کا عزم دھندلا ہوتا دکھائ دیتا ہے۔ آہ، لیکن یسعیاہ میں موجود وعدہ اب بھی اتنا ہی سچا ہے جیسا کہ اس وقت تھا۔ دوست، اگر آپ روح میں چلیں گے، تو آپ کی طاقت نئی ہو جائے گی۔ آپ بھاگیں گے اور تھکیں گے نہیں۔ یہاں تک کہ طویل، سرمئی، درمیانی فاصلے میں ہیں، آپ چلیں گے اور بیہوش نہیں ہوں گے۔ تو دوست بے ہوش نہ ہو اور ہمت نہ ہارو. آخری نشان افق کے بالکل اوپر ہے اور واہ کتنا بڑا انعام آپ کا منتظر ہے۔ ہر قدم آپ کو گھر کے قریب لارہا ہے، اس لیے اپنی نگاہیں اس پر یعنی خاوند پرجمائیں جو وہاں آپ کا انتظار کر رہا ہے۔ آپ اس وقت گھر کی طرف سفر کے درمیان میں ہیں۔

خُدا کی مدد سے، ہم زندگی کے اُن حالات کے تابع ہو سکتے ہیں جو اُس نے ہمیں سونپے ہیں۔ ہمیں صرف اس صورت میں خوش نہیں ہونا جب وہ حالات ہمیں خوش کرتے ہیں، بلکہ اس وقت بھی خوش ہونا ہے جب حالات مشکل ہوں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ خدا قادر مطلق، سب کچھ جاننے والا اور حکمت کا بانی ہے، کیونکہ اس نے ہمیں جہنم سے کال کر نجات دی ہے اور اس نے ہم سے فردوس کا وعدہ کیا ہے۔ وہ ہمارے بدترین حالات میں ہماری بھلائی کے لیے کام کر رہا ہے (رومیوں باب 8 آیت 28)۔

تو کیا آپ زندگی کی دوڑ میں تھک گئے ہیں؟ اپنے نجات دہندہ سے دعا کریں، تاکہ وہ آپ کو دوڑ کو مضبوطی سے ختم کرنے کی طاقت دے، اور اپنی نگاہیں اس آسمانی فتح کی لکیر پر رکھیں۔ اس کے کبھی نہ ختم ہونے والا فضل کے ذریعے آپ وہاں پہنچ جائیں گے۔

 

Heavenly Encouragement in the Race of Life

Life in this world—the way it is now and the way we are now—can be difficult, can’t it? It’s easy to become burdened, discouraged, depressed, or even traumatized when you suffer the loss of a loved one, when your health is failing, or when your dreams—your family, career, or lifelong ambitions—have crumbled. Perhaps you’ve become cynical or have lost hope. Some seasons of life can seem like a series of twists, turns, and dead ends.

God gives each of us a race to run. To finish well we must develop perseverance. The Christian life is not a hundred-meter dash but a marathon, requiring patience, endurance, and discipline. But how do we find the strength to finish our race well? 

Heaven Is Our Finish Line

When the apostle Paul faced hardship, beatings, and im­prisonment, he said, “One thing I do: Forgetting what is behind and straining toward what is ahead, I press on toward the goal to win the prize for which God has called me heavenward in Christ Jesus” (Philippians 3:13-14, NIV). What gave Paul the strength and perspective to “press on toward the goal”? A clear view of Heaven.

A study was done in which one group of Israeli soldiers was told it would go on a march, but was not told if or when the march would eventually end. Another group was told the length of the march.

Both groups were tested for their stress response. Although they marched not one foot further than those in the other group, those who didn't know if or when the march would end registered a much higher level of stress. Why? Because they felt helpless—hopeless—wondering if they would ever be allowed to rest.

We do not know exactly when, but as followers of Christ, we do know there is a finish line. We will not run forever. We will rest.

Think of it: Jesus, at unfathomable cost to Himself, purchased for us a happy ending. A happy “ending” that will never end. Anticipating our future on a resurrected Earth with Christ can empower us to persevere in a difficult marriage, remain faithful to the hard task of caring for an ailing parent or child, or stick with a demanding job. Samuel Rutherford wrote, “Our little time of suffering is not worthy of our first night’s welcome home to Heaven.”

If you believe this, you won’t cling desperately to this life. Your solid hope will give you strength to persevere when things get tough. You’ll lift your face, stretch out your arms, and continue running in anticipation of the greater life to come. (I must mention suicide here because the idea seduces some people. The fact that Heaven will be so wonderful shouldn’t tempt us to take shortcuts to get to the finish line. As long as God keeps you here on Earth, it’s exactly where He wants you.) 

Our Savior Is Waiting

Hebrews 12:1 tells us to “run with perseverance the race marked out for us,” creating the mental picture of the Greek competitions, which were watched intently by throngs of engrossed fans sitting high up in the ancient stadiums. The “great cloud of witnesses” refers to the saints who’ve gone before us, whose accomplishments on the playing field of life are now part of our rich history. The imagery may also suggest that those saints, the spiritual “athletes” of old, are now watching us and cheering us on from the great stadium of Heaven that looks down on the field of Earth.

The author of Hebrews goes on to admonish us to “fix our eyes on Jesus, the pioneer and perfecter of faith.  For the joy set before him he endured the cross, scorning its shame, and sat down at the right hand of the throne of God.” The following verse commands us: “Consider him who endured such opposition from sinners, so that you will not grow weary and lose heart” (Hebrews 12:2–3, NIV).

John Piper writes of these verses, “But we do not look sideways to the saints as we run. Our main motivation comes from looking straight ahead at Jesus. He finished the same race of human life. Only he never sinned, and so his race was perfect. When he finished his race, he finished our salvation. So we run, ‘looking to Jesus, the founder and finisher of our faith.’”

Jesus Christ, the Rock of salvation, is the One who has promised to prepare a place for those who put their hope in Him, a place where they will live with Him forever. If we can learn to fix our eyes on Jesus, to picture our eternal home in our mind’s eye, it will comfort and energize us, giving us a clear look at the finish line. And if we’ve served Him here, His welcome will be glorious!

In his book Things Unseen, Mark Buchanan describes the Christian’s life race and Jesus’ role encouraging us on: “You’re heaven-bent. You eagerly await a Savior who, in turn, eagerly awaits you. There’s a huge company with you, cheering every move you and your Savior make closer to each other. He pours out grace for you to finish the race. He pours out more grace when you stumble, grow weary, fall down, lose heart. He stands at the head of the course and, while all the saints who have gone before line the roadway and cheer riotously, He stretches out His arms wide in exuberant welcome, exultant congratulation.”

I imagine myself seeing Jesus, falling to my knees, having Him reach out and pull me up. To think of Him welcoming me not just once, but for all eternity, is sheer joy.

Shut your eyes and picture seeing Jesus and being embraced in His arms when you cross life’s finish line. What a wondrous thought!

The Promise of Eternal Reward

It’s not only the anticipation of seeing our Savior that should propel us forward; it’s also the joy of pleasing Him. Jesus has promised reward for those who’ve faithfully served Him: “Behold, I am coming soon, bringing my recompense with me, to repay each one for what he has done” (Revelation 22:12).

Moses remained faithful to God because “he was looking ahead to his reward” (Hebrews 11:26, NIV). Likewise, Paul ran his race with his eyes on Heaven’s prize, which motivated him to run hard and long. He was unashamedly motivated by the prospect of eternal reward, and acknowledged it freely and frequently (1 Corinthians 9:24-25; 2 Corinthians 4:16-18; 5:9-10; 2 Timothy 4:7-8). “Run in such a way as to get the prize,” he said, and on the verge of death he spoke longingly of the crown the Judge would award him in Heaven. He encouraged believers with these words: “Let us not become weary in doing good, for at the proper time we will reap a harvest if we do not give up” (Galatians 6:9).

Jesus tells us that one day His faithful servants will hear their Master say, “Well done, good and faithful servant. You have been faithful over a little; I will set you over much. Enter into the joy of your master” (Matthew 25:23).

Think about those incredible words: “Well done, good and faithful servant.” Memorize them. They are the words we long to hear, the words we were made to hear.

What changes might you need to initiate today so that you may one day hear those words from God? If you don’t yet know Jesus, it’s not too late. Confess your sins and humbly accept the gift of His atoning sacrifice on your behalf. If you do know Him, make your daily decisions in light of your destiny. By God’s grace, use the time you have left on the present Earth to store up for yourself treasures on the New Earth, to be laid at Christ’s feet for His glory (Revelation 4:10). Run your race of life to honor Him.

And should you wonder if there’s anything you’ve done that God could possibly reward, be encouraged by 1 Corinthians 4:5 which talks of the judgment when “each will receive his praise from God” (NIV). He will find something to reward you for. Will you seek to do more rewardable works for Him?

When we hear Jesus say “Well done,” we'll know that any sacrifice we made, any difficulty along the way, was nothing. Meanwhile, we can rejoice in suffering in the same way that Olympic athletes rejoice in their workouts—not because we find it easy, but because we know it will one day result in great reward.

He Gives Renewed Strength

Many are familiar with the beautiful promise of Isaiah 40:31: “Those who hope in the LORD will renew their strength. They will soar on wings like eagles; they will run and not grow weary, they will walk and not be faint” (NIV).

Joni Eareckson Tada writes about this verse:

The beginning of the Christian life was exhilarating: lots of smiles and handshakes and encouragement. Your emotions soared. And the end? Well, it’s going to be wonderful meeting Jesus face-to-face.

But now you’re in the middle. There are miles behind you and miles to go. You don’t hear any cheers or applause. Your commitment to simply keep putting one tired foot in front of the other begins to flag and fade. Ah, but the promise in Isaiah is just as true now as then. Friend, if you walk in the Spirit, your strength will be renewed. You’ll run and not be weary. Even in the long, gray, middle distance, you will walk and not be faint. So friend, don’t faint; don’t give up. The finish line is just over the horizon and, oh, what a rich reward awaits you. Every step brings you closer to home, so fix your eyes on the One who awaits you there. You’re halfway home. 

With God’s help, we can submit to the discipline of the life circumstances He’s entrusted to us. May we rejoice not merely when those circumstances please us, but even when they don’t, because we know God is sovereign, all-knowing, and all-wise, because He has delivered us from Hell and promised us Heaven, because He is working together all things, even the worst things, for our good (Romans 8:28).

So are you weary in life’s race? Ask your Savior for His empowerment to finish strong, and keep your eyes on the heavenly finish line. By His sustaining grace, you’ll make it.

Photo by Karmishth Tandel on Unsplash

Randy Alcorn (@randyalcorn) is the author of fifty-some books and the founder and director of Eternal Perspective Ministries