ہمارے چھوٹے انتخابات کا مجموعی اثر (The Cumulative Effect of Our Little Choices)

مصنف: رینڈی ایلکورن  ( Author: Randy Alcorn )

مترجم: گوہر الماس      ( Translator: Gohar Almas )

 

کیا آپ نے کبھی کچن کے سنک کا سوراخ دیکھا ہے؟ سڑکوں پر گاڑیاں دن بہ دن کھڑی کی جا سکتی ہیں، اور سب کچھ معمول کے مطابق نظر آتا ہے، پھر ایک دن ایسا آتا ہے کہ ایک بہت بڑے سوراخ جس کے پیچے ایک بڑی غار بن چکی ہے اس میں سب کاریں جاکرغائب ہو جاتی ہیں۔

ہرکوئی کہتا ہے، ’’وہ سوراخ یہاں تو کبھی تھا ہی نہیں۔‘‘ لیکن وہ سب غلط ہیں۔ سوراخ اچانک نمودار تو ہوتا ہے لیکن اس کے بننے کا مرحلہ کئ سالوں سے جاری رہا۔ زمین کے نیچے کی توڑ پھوڑ پوشیدہ تھی، لیکن یہ کام ہر وقت جاری تھا۔

اسی طرح، بعض اوقات جب ایک آدمی زنا کرتا ہے اور اپنے خاندان کو چھوڑ دیتا ہے، تو ایسا لگتا ہے کہ وہ ” یک دم صاف نیلے آسمان سے رونما ہؤا ہے۔ ایسا اصل میں نہیں ہے

برتنوں والے سنک کے سوراخ ہمیں دو چیزوں کی یاد دلاتے ہیں: پہلے تو یہ کہ کوئی چیز باہر سے اچھی لگ سکتی ہے، جب کہ ہوسکتا ہے کہ اس کے نیچے بڑے مسائل کئ برسوں سے چل رہے ہوں، اورکچھ تباہی ہونے والی ہو۔ دوسرا یہ کہ ہماری زندگیاں ہمارے چھوٹے چھوٹے انتخاب سے متاثر ہوتی ہیں، جن کے مجموعی اثرات ہوتے ہیں جو اخلاقی مضبوطی یا اخلاقی تباہی کا باعث بن سکتے ہیں۔

ایک مارنے والا مینڈھا قلعے کے دروازے کو ہزار بار مارے تو کسی کو بھی اس کا اثر نظر نہیں آئیگا، پھر بھی آخر کار گیٹ تھوڑا اندر گھس جائیگا۔ اسی طرح، گناہ سے بھرے اعمال اچانک کہیں سے نہیں نکل آتے- یہ ہماری چھوٹی چھوٹی غلطیوں کی مجموعی پیداوار ہوتی ہے۔

آپ کس کی طرح بن رہے ہیں؟

ہر روز ہم کسی نہ کسی کی طرح بن رہے ہیں - سوال یہ ہے کہ وہ ہے کون؟ مصنف جیری برجز نے مجھے یہ خطاب سن کر بتایا کہ دی نیویگیٹرز کے بانی ڈاسن ٹراٹمین کہا کرتے تھے، "آپ وہی بنیں گے جو آپ اب بن رہے ہیں"۔

کلام مقدس کردار کی نشوونما کے اس عمل کے بارے میں بتاتا ہے۔ "مگر جب ہم سب کے بے نِقاب چِہروں سے خُداوند کا جلال اِس طرح مُنعکِس ہوتا ہے جِس طرح آئینہ میں تو اُس خُداوند کے وسِیلہ سے جو رُوح ہے ہم اُسی جلالی صُورت میں دَرجہ بَدرجہ بدلتے جاتے ہیں"۔

 2 کرنتھیوں 3 باب ، آیت 18

آپ کیسے شخص بنیں گے وہ آپ کے روزانہ کے انتخاب کا مجموعی نتیجہ ہوگا۔

"لیکن صادِقوں کی راہ نُورِ سحر کی مانِند ہے جِس کی روشنی دوپہر تک بڑھتی ہی جاتی ہے"۔ امثال باب 4 ، آیت 18

یہی وجہ ہے کہ کلام پاک ہمیں غلط انتخاب کے حوالے سے مسلسل خبردار کرتا ہے۔ "شرِیروں کے راستہ میں نہ جانا اور بُرے آدمِیوں کی راہ میں نہ چلنا۔ اُس سے بچنا۔ اُس کے پاس سے نہ گُذرنا۔ اُس سے مُڑ کر آگے بڑھ جانا۔" امثال باب 4، آیات 14 اور 15

جس کو آپ دیکھتے ہیں آپ ویسے ہی بن جاتے ہیں۔ مسیح کو دیکھیں، آپ مسیح کی طرح بن جاتے ہیں۔ اگر آپ سطحی اور بے حیائی کو دیکھیں گے، تو یہ بات واضح ہوگی کہ آپ کیسے شخص بنیںگے۔

خدا پرستی کے لیے انتخاب

"ایک ہی سمت میں ایک طویل فرمانبرداری،" میں نے یوجین پیٹرسن کے اس فقرے کو ادھار لیا، ہم ہر روز جو چھوٹے چھوٹے ا نتخاب کرتے ہیں اس سے یہ بات پوری ہوتی ہے۔

ہم میں سے زیادہ تر لوگ پنیر کھانے اور ڈونٹس کھانے میں فرق جانتے ہیں، یا روزانہ ورزش کرنے اور صوفے پرساری زندگی گزارنے کے درمیان بھی فرق جانتے ہیں۔ کیا میں صرف کھاتا رہتا ہوں یا کیا میں ورزش کرتا ہوں اس سے میرے جسم کی حالت یا صحت کا اندازا ہوتا ہے۔ ہماری روحانی زندگیوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہے۔

آج چاہے میں کلام پاک اورعظیم کتابیں پڑھتا ہوں، یا اپنے بہترین گھنٹے ٹی وی دیکھنے اور اپنے فون کو دیکھنے میں گزارتا ہوں، ان چیزوں سے معلوم ہوگا کہ آگے آنے والے سالوں میں میں کیسا شخص بنوں گا۔ مجھے اپنے آپ کو منظم کرنا ہے صرف نظم و ضبط کی خاطر نہیں، بلکہ خدا پرستی کے لیے۔ ( 1 تیمتھیس باب 4 ، آیات 7 اور 8)

زبور 1 بیان کرتا ہے کہ جو شخص مسلسل خدا کے کلام پر غور کرتا ہے وہ ”پانی کی ندیوں پر لگائے گئے درخت کی مانند ہے جو اپنے موسم میں پھل دیتا ہے اور اس کا پتا بھی نہیں مرجھاتا"۔ درخت خود اپنی جگہ کا انتخاب نہیں کرتے ، ہم ایسا کرتے ہیں. ہم تعین کرتے ہیں کہ ہماری پرورش کے ذرائع کیا ہوں گے۔

 

خدا پرست عادات کو فروغ دینا

مسیح کی پیروی کرنا کوئ جادو نہیں ہے۔ اس کے لیے ہماری طرف سے بار بار اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے، جو کہ عادات اور زندگی کے شعبوں میں پروان چڑھتے ہیں۔ ہماری روحانیت ان چھوٹی عادات کی نشوونما پر منحصر کرتی ہے، جیسے کہ بائبل پڑھنا اور یاد رکھنا اور دعا کرنا۔ دن بہ دن آگے برھتے ہوۓ ہم مسیح کے سچے پیروکار بن سکتے ہیں۔ ایک بار جب ہم مسیح کی تعظیم کی عادتیں پیدا کر لیتے ہیں اور ان کی برکتوں کا تجربہ کر لیتے ہیں، تو ہم فطری طور پر اپنے ذہنوں کو اس طرف موڑ لیتے ہیں اور ہم مسیح میں خوش رہتے ہیں۔

آج آپ کے انتخاب

اب سے ایک دہائی بعد، کیا آپ اپنی زندگی پر نظر ڈالنا چاہیں گے، یہ جانتے ہوئے کہ آپ نے اچھے کھانے کھاۓ اورآپ نے باقاعدگی سے ورزش کرنے کے بارے میں مستقل طور پر اچھے فیصلے کیے؟ ضرور لیکن خواہشات اور حقیقت میں بہت بڑا فرق ہے۔ اس فرق کو ختم اس کے ذریعے کیا جاسکتا ہے خود پر قابو پانا، اور یہ روح کا پھل ہے (گلتیوں باب 5، آیات 22 اور 23)

درحقیقت، روح کے قابو میں رہنا اور خود پر قابو پانے کا آپس میں تعلق کلام میں بھی موہے، کیونکہ اگر ہم خود پر قابو رکھیں گے تو پاک روح کو موقع دینگے کہ ہمیں کنٹرول کے۔

یہ سچ ہے کہ ہم عادت کی مخلوق ہیں — لیکن یہ بھی سچ ہے کہ مسیح ہمیں نئی ​​عادات قائم کرنے کی طاقت دے سکتا ہے۔

تو آپ روزمرہ کے درست انتخاب کیسے کرنا شروع کرینگے ہیں؟

افسیوں باب 5، آیت 15 اور 16 سکھاتی ہے "پس غَور سے دیکھو کہ کِس طرح چلتے ہو۔ نادانوں کی طرح نہیں بلکہ داناؤں کی مانِند چلو۔ اور وقت کو غنِیمت جانو کیونکہ دِن بُرے ہیں"۔ اپنے دن کے دو گھنٹے کیوں نہ بچاۓ جائیں جو آپ نے ٹیلی ویژن، اخبار، ویڈیو گیمز، فون، اوور ٹائم کام کرنے، یا مشاغل پر گزارنے ہوں گے؟اپنی عادات بدلیں۔ ایک گھنٹہ کلام مقدس پر غور کرنے اور یاد کرنے میں گزاریں۔ دوسرا گھنٹہ ایک عمدہ کتاب پڑھنے میں گزاریں۔ جو کچھ آپ سیکھتے ہیں اسے اپنی شریک حیات اور اپنے بچوں یا کسی دوست کو بھی بتائیں۔

آپ کپڑے تہہ کرتے ہوۓ، گھاس کاٹتے ہوۓ یا گاڑی چلاتے ہوۓ کلام مقدس اور آڈیو کتابوں اور مسیحی گیتوں کو سنیں۔ گفتگو کے ریڈیو یا کھیلوں کے ریڈیو سننے کو وقت ممت دیں، اس لیے نہیں کہ ریڈیو سننا غلط ہیں بلکہ اس لیے کہ آپ کے پاس کچھ اور اس سے بہت بہتر کرنے کو ہے۔ ٹیلی ویژن، انٹرنیٹ، اور سوشل میڈیا سے ایک ہفتے کا روزہ رکھیں۔ معلوم کریں کہ آپ کے پاس کتنا وقت ہے۔ اس وقت کو بچا کراپنی اندرونی زندگی کو پروان چڑھانے کی نئی عادات قائم کریں اور مسیح میں جینا سیکھیں۔ "مَیں انگُور کا درخت ہُوں تُم ڈالِیاں ہو۔ جو مُجھ میں قائِم رہتا ہے اور مَیں اُس میں وُہی بُہت پَھل لاتا ہے کیونکہ مُجھ سے جُدا ہو کر تُم کُچھ نہیں کر سکتے"۔ یوحنا باب 15، آیت 5

میں دعا کرتا ہوں کہ ہم آج مسیح کے زور کو ایسے انتخاب کرنے کے لیے مانگیں جو اُس کی تعظیم کریں، ہمارے لیے بڑی خوشی لائیں، اورہماری مدد کریں کہ جیسے ہم اب سے دس سال بعد بننا چاہتے ہیں وہ ہم بن پائیں۔

 

The Cumulative Effect of Our Little Choices

Have you ever seen a sink hole? Cars can be parked on a street day after day, and everything appears normal, then one day the asphalt caves in and cars disappear into a gigantic hole.

Everybody says, “That hole came out of nowhere.” But they’re wrong. The hole appears suddenly but the process that led to it has gone on for many years. The underground erosion was invisible, but it was there all along.

Likewise, sometimes when a man commits adultery and abandons his family, it appears to have come “out of the clear blue sky.” It hasn’t.

Sink holes remind us of two things: first, something can look good on the outside, when underneath major problems have been going on for years, and disaster’s about to happen. Second, our lives are affected by little choices, which have cumulative effects that can result in either moral strength or moral disaster.

A battering ram may hit a fortress gate a thousand times, and no one impact seems to have an effect, yet finally the gate caves in. Similarly, sinful actions don’t come out of nowhere—they’re the cumulative product of little moral compromises made over time, which ultimately result in ungodly behavior. On the other hand, it’s equally true that godly actions are the cumulative product of small, habitual, and Christ-honoring choices for righteousness.

Who Are You Becoming?

Every day we’re becoming someone—the question is, who? Author Jerry Bridges, hearing me address this, told me that Dawson Trotman, founder of The Navigators, used to say, “You are going to be what you are now becoming.”

Scripture speaks of this process of character development: “And we all, with unveiled face, beholding the glory of the Lord, are being transformed into the same image from one degree of glory to another” (2 Corinthians 3:18).

Who you become will be the cumulative result of the daily choices you make. “The path of the righteous is like the first light of dawn, which shines brighter and brighter until full day” (Proverbs 4:18). This is why Scripture continually warns us against wrong choices: “Do not enter the path of the wicked and do not walk in the way of the evil. Avoid it; do not go on it; turn away from it and pass on” (Proverbs 4:14–15).

You become like what you choose to behold. Behold Christ, you become Christlike. Gaze upon superficiality and immorality, and it’s equally predictable what you’ll become.

Choices for Godliness

"A long obedience in the same direction," to borrow a Eugene Peterson phrase, is sustained by the small choices we make each day. Most of us know the difference between eating cottage cheese and donuts, or the difference between a daily workout and spend­ing life on a couch. What I eat and whether I exercise will determine the state of my body. The same is true of our spiritual lives. Whether I read Scripture and great books, or spend my best hours watching TV and looking at my phone, will make me into the person I will be several years from now. I should discipline myself today, not for discipline’s sake, but for the purpose of godliness (1 Timothy 4:7, 8).

Psalm 1 says the one who continually meditates on God’s Word “is like a tree planted by streams of water that yields its fruit in its season and its leaf does not wither.” Trees do not choose where to place themselves, but we do. We determine what our sources of nourishment will be.

Developing Godly Habits

Following Christ isn’t magic. It requires repeated actions on our part, which develop into habits and life disciplines. Our spirituality hinges on the development of these little habits, such as Bible reading and memorization and prayer. In putting one foot in front of the other day after day, we become the kind of person who grows in Christlikeness. Once we develop Christ-honoring habits and experience their rewards, we’ll instinctively turn our minds to what makes us happy in Christ.

A decade from now, would you like to look back at your life, knowing you’ve made consistently good decisions about eating right and exercising regularly? Sure. But there’s a huge gap between wishes and reality. The bridge over the gap is self-control, a fruit of the Spirit (Galatians 5:22–23).

The key to self-control is discipline, which produces a long-term track record of small choices in which we yield to God’s Spirit, resulting in new habits and lifestyles. In fact, Spirit-control and self-control are interrelated in Scripture, because godly self-control is a yielding of self to the Holy Spirit.

It’s true we are creatures of habit—but it’s also true Christ can empower us to form new habits.

Your Choices Today

So how can you start to make the right small choices? Ephesians 5:15-16 tells us to “Look carefully then how you walk, not as unwise but as wise, making the best use of the time.” Why not redeem two hours of your day that you would have spent on television, newspa­per, video games, phone, working overtime, or hobbies? Change your habits. Spend one hour meditating on and/or memorizing Scripture. Spend the other hour reading a great book. Share what you’re learn­ing with your spouse and children, or a friend.

Listen to Scripture and audio books and praise music while you fold clothes, pull weeds, or drive. Say no to talk radio or sports radio, not because they’re bad but because you have something better to do. Fast from television, the Internet, and social media for a week. Discover how much more time you have. Redeem that time by establishing new habits of cultivating your inner life and learning to abide in Christ. “I am the vine; you are the branches. Whoever abides in me and I in him, he it is that bears much fruit, for apart from me you can do nothing” (John 15:5).

May we call upon Christ’s strength today to make choices that will honor Him, bring us great happiness, and help us become the kind of people we want to be ten years from now!

Photo by Kamran Ch on Unsplash

Randy Alcorn (@randyalcorn) is the author of fifty-some books and the founder and director of Eternal Perspective Ministries