کیا مصائب کے باوجود مسیح میں خوش رہنا ممکن ہے؟ (Is It Possible to Be Happy in Christ Despite Suffering?)

مصنف: رینڈی ایلکورن  (Author: Randy Alcorn)


خدا کبھی بھی اس بات کی ضمانت نہیں دیتا ہے کہ مسیحی زندگی ہموار یا آسان ہوگی۔ در حقیقت ، وہ اس کے برعکس وعدہ کرتا ہے۔ "بلکہ جِتنے مسِیح یِسُوع میں دِینداری کے ساتھ زِندگی گُذارنا چاہتے ہیں وہ سب ستائے جائیں گے۔ "

  دوسرا تیمِتھُیس 12:3

جب ہمیں بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ہمیں حییران نہیں ہونا (1 پطرس 4: 12 دیکھیں)

نوحہ کے تمام حوالہ جات ، نوحہ کی کتاب ، اور بہت ساری دیگر صحیفوں میں مسیحی زندگی میں حقیقت پسندی اور غم کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔ خوشی اور مسرت کے لیے کچھ بھی کرلینے سے ہم کلام کی ان باتوں کو نظرانداز نہیں کرسکتے۔

واقعی ، بائبل کا ایک عالمی تصور اور خوشی اور مسرت کا ایک مستند نظریہ اس موجودہ دور میں تکالیف کی حقیقتوں کو پوری طرح سے تسلیم اور قبول کرتا ہے۔

کلام میں بیان کردہ خوشی سب سے زیادہ کمال ہے کیونکہ اس میں کسی تکلیف سے انکار یا کوئ دکھاوا شامل نہیں ہے اور شدید مشکلات کے دوران بھی اس خوشی کا تجربہ کیا جاسکتا ہے۔مسیح کے پیروکار اس قسم کی خوشی کی تبلیغ نہیں کرتے جو صرف خوشگوار سوچ پر قائم ہوئ ہو۔اس کے بجائے ، ہماری خوشی کی بنیاد سچائ پر ہوتی ہے اور کبھی کبھی وہ خوشی تکلیف میں بھی واضح ہوجاتی ہے۔

خداوند میں ہمیشہ خوش رہنا (فلپیوں 4: 4 دیکھیں) بعض اوقات غیر حقیقی بھی معلوم ہوسکتا ہے۔ لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ خوشی گزرتے ہوئے حالات میں نہیں بلکہ یہ ایک مستقل حقیقت میں مرکوز ہے. اور وہ حقیقت خدا خود ہے ، اور اس کا بیٹا ، یسوع ، جو ہمارے لئے مرا اور دوبارہ جی اٹھا۔

دوسری طرف ، ہم فرض کر سکتے ہیں کہ کلام پاک ہمیں یہ حکم نہیں دیتا کہ ہم اپنی قوم کی حالت ، ہماری ثقافت کی تبدیلی ، اپنے شریک حیات کے برے رویے ، ہمارے بچے کی مشکل ، ہمارے چرچ کے تنازعات ، ملازمت میں کمی ، یا ہماری خراب صحت میں خوش ہوں۔ دوسری طرف ، ہمیں بتایا گیا ہے کہ "اور سب باتوں میں ہمارے خُداوند یِسُوع مسِیح کے نام سے ہمیشہ خُدا باپ کا شُکر کرتے رہو۔"

 (افسیوں 20:5)۔

اسی طرح کلام کہتا ہے کہ " ہر ایک بات میں شُکرگُذاری کرو کِیُونکہ مسِیح یِسُوع میں تُمہاری بابت خُدا کی یہی مرضی ہے۔"

 1 تھِسلُنیکیوں 18:5

مجھے نہیں لگتا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم برائی میں بھی خوش ہوں ، کیونکہ خدا برائی سے نفرت کرتا ہے (زکریا 8: 17؛ امثال 6: 16-19) اور ہمیں برائ سے نفرت کرنے کا حکم دیتا ہے (زبور 10:97 ، امثال 13:8 ، رومیوں 12: 9)۔

میرے خیال میں اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں رومیوں 28:8 پر یقین کرنا چاہئے ، جو حوالہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ خدا ہماری بھلائی کے لئے مجموعی طور پرکام کرے گا ، بشمول ہمارے ساتھ ہونے والی بری چیزوں کے بھی۔

اس پر یقین کرنے سے ہم مشکل اور حتیٰ کہ برائ کے حالات کے بیچ خدا کا شکر ادا کرنے کے لئے آزاد ہوجاتے ہیں یہ جانتے ہوئے کہ خد اپنے فضل و کرم سے ، ان چیزوں کے ذریعے ہم میں عظیم اور دائمی مقاصد کو پورا کررہا ہے۔

ہمیں بتایا گیا ہے کہ جب ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ہمیں خداوند میں خوشی کو منانا ہے اور ہر چیز کو خوشی ہی سمجھنا ہے۔ (یعقوب 2:1)۔ ہمارا خوشیاں منانا یعنی مصائب کے دوران خوش رہنا اور خدا کا شکر گزار ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم خدا پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ہم ایمان کے ساتھ چلتے ہیں ، اس پر یقین رکھتے ہیں کہ جو خدا نے ہماری خاطر کیا اور جو وہ اب کررہا ہے اچھا ہے ، اور وہ کام جوان سبھی چیزوں کا خاتمہ کرنے کے لیے جو ہمیں پریشان کرتی ہیں کرے گا وہ بھی اچھا ہوگا۔

اس جواب کے لئے ہمیں ایمان کی ضرورت ہے کہ خدا ہماری مشکلات کی بڑی محبت سے نگرانی کرتا ہے۔

اپنی تکلیف کو زندگی میں اچانک ہوئ  کسی چیز کے طور پر دیکھنا یا اسے کسی شخص کے برے فیصلے کا نتیجہ سمجھنا اس کی وجہ سے ہماری پریشانیاں ہم سے ہماری خوشیاں چھین لیتی ہیں۔

خدا کے بارے میں کمزور ، چھوٹا ، یا ناقص نظریہ ہمارے اطمینان کو ہمیشہ زہر دینے کی طرح ہے۔

ہم خدا کی صفات کو سمجھنے میں جس قدر بڑھتے جائیں گے ، اتنے ہی زیادہ خوش ہم ہوتے جائینگے۔ 

ہمارا خدا قادر اور پیار کرنے والا خدا ہے

خدا کے کردار کے بارے میں ہمارا جتنا گہرا علم  ہوگا، مشکل وقت میں ہماری طاقت ، نقطہ نظر اور خوشی کا تصور بھی اتنا گہرا ہوگا۔ وہ خدا کون ہے جس پر ہمیں بھروسہ رکھنا ہے؟ وہ اصل میں ہے کیسا؟

خدا کے کردار کے بارے میں ہمارا جتنا گہرا علم  ہوگا، مشکل وقت میں ہماری طاقت ، نقطہ نظر اور خوشی کا تصور بھی اتنا گہرا ہوگا۔ وہ خدا کون ہے جس پر ہمیں بھروسہ رکھنا ہے؟ وہ اصل میں ہے کیسا؟ جیسا کہ گذشتہ دو سالوں میں میری بیوی نینسی کینسر سے لڑتی رہی، اور اس کے دوران نینسی اور میں نے خدا کی صفات پر غور کیا ، اور کتابوں کو دوبارہ پڑھنے اور سننے میں وقت گزارا کتابیں جیسے کہ اے ڈبلیو ٹوزر کی کتاب  "دا نولیج آف دی ہولی" اور جے آئ پیکر کی کتاب "نوئینگ گوڈ" اور جیری برجز کی کتاب "ٹرسٹنگ گوڈ" ۔ جب ہم اس کی پاکیزگی ، فضل ، انصاف ، رحمت ، اور اس کے ہر پہلو کو کتاب میں دیکھتے ہیں تو ہمارے دل اس کی پرستش سے بھر جاتے ہیں۔

کلام سکھاتا ہے کہ ہمارا خدا ہم سے پیار کرتا ہے اور وہ کائنات کی ہر چیز بشمول تمام بری چیزوں پرقادر ہے ۔ ہم ایک پیار کرنے والے خدا کی قدرت پر یقین کیے بغیر خوش نہیں ہو سکتے اور نہ ہی مسلسل خوش رہ سکتے ہیں۔

کلام سکھاتا ہے کہ ہمارا خدا ہم سے پیار کرتا ہے اور وہ کائنات کی ہر چیز بشمول تمام بری چیزوں پرقادر ہے ۔ ہم ایک پیار کرنے والے خدا کی قدرت پر یقین کیے بغیر خوش نہیں ہو سکتے اور نہ ہی مسلسل خوش رہ سکتے ہیں۔ مسیحی نقطہ نظر کی خوبصورتی یہ ہے کہ جب ہمیں اپنی طاقت کے اندر پہل کرنے اور اس پر قابو پانے کی ترغیب دی جاتی ہے ، تو اس کے ساتھ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ زندگی کا بہت بڑا حصہ جس پر ہم قابو نہیں پاسکتے وہ خدا کی حکمرانی میں ہے۔

کلام کہتا ہے کہ "ہمارا خُدا تو آسمان پر ہے۔ اُس نے جو کچھ چاہا وہی کیا۔" زبور 115:3 اور یہ بھی کہتا ہے کہ "آدمی کا دِل اپنی راہ ٹھہراتا ہے پر خداوند اُسکے قدموں کی راہنمائی کرتا ہے" امثال 9:16

اور چونکہ خدا ابدی حکمت والا ہے ، اچھا ہے اور خوش ہے ، اور ہم ایسےنہیں ہیں ، ہمارے لیے بہتر ہے کہ خدا کا اختیار ہم پر ہے۔ 

شکر کرنا مرکزی بات ہے

مصائب کے وقت ہماری خوشی کی سطح کو بلند کرنے کا ایک یقینی طریقہ شکر گزار ہونے کا انتخاب کرنا ہے۔ ہر حال میں ، چاہے وہ کتنا ہی مشکل ہو ، ہم خدا کا شکر ادا کرسکتے ہیں اور اس کی حقیقی خوشی کا تجربہ کرسکتے ہیں۔ افسیوں 5: 18-20 میں لکھا ہے کہ "بلکہ رُوح سے معمُور ہوتے جاؤ اور آپس میں مزامِیر اور گِیت اور رُوحانی غزلیں گایا کرو اور دِل سے خُداوند کے لِئے گاتے بجاتے رہا کرو۔ اور سب باتوں میں ہمارے خُداوند یِسُوع مسِیح کے نام سے ہمیشہ خُدا باپ کا شُکر کرتے رہو۔" جو پاک روح کی راہنمائ میں رہتے ہیں وہ خدا کی شکر گزاری سے علیحدہ نہیں ہو سکتے۔

جب نینسی اور مجھے ایک سفر منسوخ کرنا پڑا جس کے ہم منتظر تھے تو ہم ان تمام اچھی چیزوں پر غور کرنے لگے جو ہم اس وقت میں کرسکتے تھے۔ پھر ہم نے وہ اچھی چیزیں کرنا شروع کیں اور ان کے بارے میں ہم پرجوش ہوگئے۔ اپنی کھوئی ہوئی چیز کے باعث ناخوشی سے چمٹے رہنے کے بجائے ہمیں اپنے

حاصل کردہ کسی چیز میں خوشی ملی۔

چاہے ہم اپنے آپ کو منانے کی کوئی وجہ تلاش کریں یا ماتم کریں ، ایسا وقت کبھی نہیں آتا ہے جب خدا کا کریں۔ زبور 13:140 کہتا ہے "یقیناً صادِق تیرے نام کا شُکر کرینگے۔ اور راستباز تیرے حُضُور میں رہینگے۔"

اگرچہ "اپنے آپ کو خوش رکھنا" مشکل محسوس ہوتا ہے ، لیکن حدا کا شکر ادا کرنا مشکل نہیں ہے جس کے نتیجے میں ہمیشہ خوشی ملتی رہتی ہے

ہمارے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں ، شکرکرنے سے جو خوشی پیدا ہوتی ہے وہ ہمیشہ ہماری پہنچ میں ہوتی ہے۔ 

ہمارا دکھ ختم ہوگا

ہماری زندگیوں کے بدترین مصائب آگے آنے والے ہیں ، لیکن ہمارا پیارا خدا ہمیں یقین دلاتا ہے کہ یہ صرف تھوڑے ہی وقت کے لئے ہونگے۔ لیکن وہ ہمارے موجودہ مصائب کے عوض مستقبل میں ہمیں اجر دینے کا وعدہ کرتا ہے۔

کِیُونکہ میری دانِست میں اِس زمانہ کے دُکھ درد اِس لائِق نہِیں کہ اُس جلال کے مُقابِل ہوسکیں جو ہم پر ظاہِر ہونے والا ہے۔  رومیوں 18:8

کِیُونکہ ہماری دم بھر کی ہلکی سی مُصِیبت ہمارے لِئے ازحدّ بھاری اور ابدی جلال پَیدا کرتی جاتی ہے۔ 2 کرنتھیوں 17:4

ہماری لمحہ بہ لمحہ پریشانیوں سے حاصل ہونے والے ابدی جلال کی روشنی میں ، پولس دائمی نقط نظر سے مندرجہ ذیل الفاظ پیش کرتا ہے: جِس حال میں کہ ہم دیکھی ہُوئی چِیزوں پر نہِیں بلکہ اندیکھی چِیزوں پر نظر کرتے ہیں کِیُونکہ دیکھی ہُوئی چِیزیں چند روزہ ہیں مگر اندیکھی چِیزیں ابدی ہیں۔ 2 کرنتھیوں 18:4

اس آیت نے ہمیشہ میرے ذہن میں باتوں کو واضح کیا ہے ، اور اسی وجہ سے میں نے اپنی تنظیم کا نام "اٹرنل پرسپیکٹّو منسٹریز" رکھا ہے۔

ہمارے ساتھ یہ وعدہ کیا جانا بہت کمال صرف اس لیے نہیں ہے کہ ہماری تکالیف ختم ہو جائیںگی بلکہ ان تکالیف کا بھی خاص مقصد ہے۔ اس وقت جو نظر نہیں آتا ہےاگر  ہم اس پر جتنا زیادہ اپنی نگاہیں لگاۓ رکھیں گے ، اتنا ہی زیادہ ہمیں یقین دہانی اور راحت مل سکتی ہے اور ہماری خوشی میں اتنا زیادہ اضافہ ہوسکتا ہے۔ اسی وجہ سے سکاٹش مبشر ڈنکن میتھیسن (1824 –1869) نے دعا کی ، "اے خدا ، میری آنکھوں پر ہمیشہ کے لئے  ابدیت کی مہر لگا دے۔"

نئی زمین پرجی اٹھنے والے افراد کی حیثیت سے ایک عام دن ہمارے یہاں اس زمین پر سب اچھے گزراے ہوۓ دن سے کہیں بہتر ہوگا۔ اور ہم ایک دن لعنت کے تحت زمین پر اپنا بدترین دن کو ضائع ہوتے نہیں دیکھیں گے ہوا بلکہ تب ہمیں ایک مثبت اور دائمی فرق دکھائ دیگا۔

 

مترجم: گوہر الماس      (Translator: Gohar Almas)

 

Is It Possible to Be Happy in Christ Despite Suffering?

God never guarantees that the Christian life will be smooth or easy. In fact, he promises the opposite: “All who desire to live godly in Christ Jesus will suffer persecution” (2 Timothy 3:12, NKJV). We’re not to be surprised when we face great difficulties (see 1 Peter 4:12).

All the psalms of lament, the book of Lamentations, and many other Scripture passages reveal the importance of realism and sorrow in the Christian life. No treatment of joy and happiness should deny or minimize such texts.

Indeed, a truly biblical worldview and an authentic doctrine of joy and happiness fully recognize and embrace the realities of suffering in this present age.

The happiness described in Scripture is all the richer because it doesn’t involve denial or pretense and can be experienced amid severe difficulty. Christ-followers don’t preach the flimsy kind of happiness that’s built on wishful thinking. Instead, our basis for happiness remains true—and sometimes becomes clearer—in suffering.

Rejoicing Is Rooted in Our God, Not Our Circumstances

Rejoicing always in the Lord (see Philippians 4:4) may seem unrealistic at times. But we must remember that this rejoicing is centered not in a passing circumstance but in a constant reality—God Himself, and His Son, Jesus, who died for us and rose again.

On the one hand, we might suppose that Scripture doesn’t command us to rejoice in our nation’s condition, our culture’s trajectory, our spouse’s attitude, our child’s struggle, our church’s conflicts, our job loss, or our poor health. On the other hand, we’re told to “always [give] thanks to God the Father for everything, in the name of our Lord Jesus Christ” (Ephesians 5:20, NIV). Likewise, Scripture tells us to “give thanks in all circumstances; for this is God’s will for you in Christ Jesus” (1 Thessalonians 5:18, NIV).

I don’t think this means that we are to rejoice in evil, per se, since God hates evil (Zechariah 8:17; Proverbs 6:16-19) and commands us to hate it (Psalm 97:10; Proverbs 8:13; Romans 12:9). I do think it means that we should believe Romans 8:28, which tells us God will work all things together for our good, including evil things that happen to us.

Believing this frees us to thank God in the middle of difficult and even evil circumstances, knowing that in His sovereign grace, He is accomplishing great, eternal purposes in us through these things.

We’re told to rejoice in the Lord and to “consider it all joy” when we face hardship (James 1:2, NASB). Choosing to rejoice, by rehearsing reasons to be happy and grateful while suffering, affirms trust in God. We walk by faith, believing in what God has done, is doing, and will do to bring a good end to all that troubles us.

This response requires faith that God lovingly superintends our challenges. Viewing our sufferings as random or obsessing over someone else’s bad choices that caused our sufferings robs us of happiness. A weak, small, or faulty view of God always poisons the well of our contentment.

The more we grow in our understanding of God’s attributes, the happier we become.

We Have a Sovereign and Loving God

The deeper our knowledge of God’s character, the deeper our reservoir of strength, perspective, and happiness in hard times. Who is this God we are to trust? What is He really like?

As we have dealt with her cancer over the past two years, Nanci and I have spent time meditating on the attributes of God, rereading and listening to audiobooks such as The Knowledge of the Holy by A. W. Tozer and Knowing God by J. I. Packer and Trusting God by Jerry Bridges. Our hearts are lifted in praise as we contemplate His holiness, grace, justice, mercy, and every facet of His being revealed to us in Scripture.

Scripture teaches that we have a God who loves us and is sovereign over the universe, including all evil. We can’t be happy, and remain happy, without believing in the sovereignty of a loving God. The beauty of the Christian worldview is that while we’re encouraged to take initiative and control what’s within our power, we also know that the enormous part of life we can’t control is under God’s governance.

Scripture tells us, “Our God is in the heavens; he does all that he pleases” (Psalm 115:3). It assures us, “The heart of man plans his way, but the Lord establishes his steps” (Proverbs 16:9). And since God is eternally wise and good and happy, and we’re not, we’re far better off with Him, not us, in control.

Gratitude Is Central

One surefire way to raise our level of happiness in times of suffering is choosing to be thankful.

In every circumstance, no matter how difficult, we can give thanks to God and experience his joy. Ephesians 5:18-20 says, “Be filled with the Spirit, addressing one another in psalms and hymns and spiritual songs, singing and making melody to the Lord with your heart, giving thanks always and for everything to God the Father in the name of our Lord Jesus Christ.” Being Spirit controlled is inseparable from giving thanks in everything.

When Nanci and I had to cancel a trip we were really looking forward to, we began to contemplate all the good things that we could do with the time we now had. Then we started doing those good things and got excited about them. Instead of clinging to unhappiness for something we lost, we found happiness in something we gained.

Whether we find ourselves having reason to celebrate or to mourn, there’s never a time not to express our gratitude to God. Psalm 140:13 declares, “Surely the righteous shall give thanks to your name.”

While it may seem hard to “make ourselves happy,” it’s not hard to choose to give thanks, which in turn always kindles happiness. No matter how difficult our circumstances, the happiness thanksgiving generates is always within our reach.

Our Suffering Will End

Even if the worst suffering of our lives still lies ahead of us, our loving God assures us it will be for only a short time. But He promises far more—a future payoff for our present sufferings:

Our present sufferings are not worth comparing with the glory that will be revealed in us. (Romans 8:18, NIV)

Our light and momentary troubles are achieving for us an eternal glory that far outweighs them all. (2 Corinthians 4:17, NIV)

In light of that eternal glory being achieved for us by our momentary troubles, Paul offers the following words of eternal perspective: “We fix our eyes not on what is seen, but on what is unseen, since what is seen is temporary, but what is unseen is eternal” (2 Corinthians 4:18, NIV). This verse has always cleared my head, and that’s why I named our organization Eternal Perspective Ministries.

How wonderful to be promised not only that our present sufferings will end but also that even now they have a hidden purpose that will forever outlast this life! The more we fix our eyes on what’s presently unseen, the more we can experience reassurance and comfort and the increase in happiness they inevitably bring. That’s why Scottish evangelist Duncan Matheson (1824–1869) prayed, “Lord, stamp eternity upon my eyeballs.”

A normal day as resurrected people on the New Earth will be far better than the best day we’ve ever experienced here. And we will one day see our worst day on Earth under the Curse as not having been wasted but as making a positive and eternal difference.

Photo by LumenSoft Technologies on Unsplash

Randy Alcorn (@randyalcorn) is the author of fifty-some books and the founder and director of Eternal Perspective Ministries