کیا مشکل حالات میں خدا سے ناراض ہونا ٹھیک ہے؟ (Is It OK to Be Angry with God over Difficult Things?)

مصنف: رینڈی ایلکورن  ( Author: Randy Alcorn )

مترجم: گوہر الماس    ( Translator: Gohar Almas )

 

بعض اوقات ہم خدا سے ناراض ہونے کو ٹھیک سمجھتے ہیں لیکن ہمیں اسے درست کرنے کی ضرورت ہے۔ برے حالات کی وجہ سے گہرے طور پر مایوس ہونے، حوصلہ کھو بیٹھنے یا یہاں تک کہ بہت افسردہ ہونے اور خدا سے ناراض ہونے میں فرق ہے۔ خدا سے ناراض ہونے کا مطلب خدا پر الزام لگانا ہے اور یہ کہنا ہے کہ "حدا نے غلط کیا۔" اور خُدا کو ذمہ دار ٹھہرانا ایک گلی میں داخل ہونے کی طرح ہے جس کا کوئ دوسرا راستہ نہیں کیونکہ ایسا کرنے سے ہم اپنے سکون کے سب سے بڑے ذریعہ سے منہ موڑ لیتے ہیں۔

دنیا کے ساتھ غلط ہے کیا؟

اگر خدا وہی ہے جیسا کہ کلام کہتا ہے کہ وہ ہے تو کیا وہ واقعی دنیا میں اور خاص طور پر میری زندگی میں ہونے والی تمام بری چیزوں کا ذمہ دار ہے؟ میرے خیال میں اس کا جواب نہیں ہے، وہ ذمہ دار نہیں ہے۔  

کیا خُدا سے ہمارے ناراض ہونے کی کوئ وجہ کلام مقدس میں ہے؟ کسی صورت حال کے بارے میں مضبوط جذبات رکھنا سمجھ آتا ہے اور اندر کے جذبات غلط نہیں ہوتے۔ میرے خیال میں خدا کے سامنے اپنے دکھ، ناراضگی اور احساسات کا ایمانداری سے اعتراف کرنا اہم ہے۔ اس لیے ہمیں اپنے جذبات (جس میں الزام دینا بھی شامل ہے) کی وجہ اپنی اداسی، مایوسی اور حوصلہ شکنی کو ٹھہرانا چائیے۔

ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ گناہ کس کا قصور ہے۔ دنیا میں تمام مصائب براہ راست یا کسی بھی طریقے سے گناہ کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ یوحنا باب 9، آیات 2 اور 3 میں یسوع کے شاگردوں نے پوچھا ' اَے ربیّ! کِس نے گُناہ کِیا تھا جو یہ اندھا پَیدا ہُؤا۔ اِس شخص نے یا اِس کے ماں باپ نے؟

یِسُوعؔ نے جواب دِیا کہ نہ اِس نے گُناہ کِیا تھا نہ اِس کے ماں باپ نے بلکہ یہ اِس لِئے ہُؤا کہ خُدا کے کام اُس میں ظاہِر ہوں۔

اس نے کہا کہ یہ کوئی مخصوص گناہ نہیں ہے۔ اگر کسی کو کینسر ہو تو اس کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ اس نے کوئی گناہ کیا ہوگا اور اب اسے خدا کی طرف سے سزا مل رہی ہے۔ پھر بھی مجموعی طور پر اس دنیا میں درد اور تکلیف گناہ کی سزا کا ہی نتیجہ ہے اور زوال اور لعنت کا حصہ ہے۔ گناہ کی مزدوری موت ہے

 (رومیوں باب 6 ، آیت 23)۔

ہم سب ایک گناہ سے بھری دوڑ کا حصہ ہیں۔ یہ صرف آدم اور حوا، یا ہٹلر، چیئرمین ماؤ، یا پول پاٹ جیسے "واقعی برے لوگوں" کی بات نہیں جنہوں نے گناہ کۓ۔ یہ آپ اور میرے جیسے لوگ ہوتے ہیں جو گنہگار ہوتے ہیں۔

میں نے اپنی کتابوں دا گڈ نیس آف گاڈ اور اف گاڈ از گڈ میں، جی کے چیسٹرٹن کے بارے میں ایک کہانی کا ذکر کیا، ان سے اور ان کے ساتھ دیگر ممتاز لوگوں سے دا لندن ٹائمز نے یہ سوال کیا کہ "دنیا میں خرابی کیا ہے؟

شاید ان کا جوابی مضمون تاریخ کا سب سے مختصر مضمون تھا:

"پیارے صاحبان:

 میں ہوں۔

آپ کا مخلص،

جی کے چیسٹرٹن۔

 دنیا میں کیا خرابی ہے؟ میں ہوں. یہ بائبل کی ایک سچائی ہے۔ ہم سب اس مسئلے کا حصہ ہیں۔

این ووسکمپ لکھتے ہیں کہ ہم ایک ٹوٹے ہوۓ اور زخمی سیارے کو دیکھتے اور اس کے ساتھ دکھ اٹھاتے ہیں اور ہم اسے ایک لاتعلق خالق (اگر ہم سوچتے ہیں کہ کوئی خدا بھی وجود رکھتا ہے) کا لاپرواہ کام قرار دیتے ہیں۔ کیا ہم نے کبھی اس ٹوٹی پھوٹی جگہ یعنی دنیا کے بارے میں سوچا ہے جس میں ہم ناشکرے اورغیر مطمئن ہوجاتے ہیں ہم نے ہی اس جگہ کا یہ حال بنایا ہے؟

یہ سب گناہ کی وجہ سے ہے کبھی کبھی یہ گناہ ہمارا نہیں بلکہ کسی اور کا ہوتا ہے جس کے نتیجے میں زندگی میں بری چیزیں آتی ہیں۔ جب قدرتی آفات لوگوں کی جان لے لیتی ہیں جیسے کہ اگر کینسرکسی پیارے کی جان لے لے تو خدا سے ناراض ہونے کی بجائے ہمیں اس گناہ پرغصہ کرنا چاہیے جو تمام مسائل کی جڑ ہے۔

حتمی علاج

 

مسیحیوں کے لیے غصے اور تکلیف کے احساسات کا حتمی علاج اس بات کو ماننا ہے کہ خدا بھلا، خودمختار اور زور آور ہے۔ ہمیں رومیوں باب 8 ، آیت 28 پڑھنے کی ضرورت ہے '  سب چِیزیں مِل کر خُدا سے مُحبّت رکھنے والوں کے لِئے بھلائی پَیدا کرتی ہیں یعنی اُن کے لِئے جو خُدا کے اِرادہ کے مُوافِق بُلائے گئے۔' یہ خُدا کے الہامی کلام کا حصہ ہے بالکل یوحنا باب 3 ، ایت 16 کی طرح برحق۔

ہاں ابدیت کے اس پہلو کے مطابق ہم اکثر یہ نہیں سمجھ پاتے کہ خدا ہماری زندگیوں میں ایسی مشکل چیزوں کی اجازت کیوں دیتا ہے جنہیں وہ روک بھی سکتا ہے۔ لیکن رومیوں باب 8 ، آیت 28  کا حوالہ جو تسلی مجھے دیتا ہے وہ یہ ہے کہ میں اپنے ساتھ ہونے والی بدترین چیز کو دیکھ کر بھی کہہ سکتا ہوں ' "میں خدا کا فرزند ہوں۔ خدا نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ کسی نہ کسی طرح وہ اس بہت بری اور ہولناک صورتحال کو میری زندگی میں بڑی بھلائی کے لیے استعمال کرے گا۔ ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اس نے ہماری زندگیوں میں جو بھی مشکل آنے کی اجاذت دی ہے وہ باپ کی طرف سے اس کی حکمت اور محبت اور مرضی کے ذرریعے ہی ہے۔ اس سے ہمیں حتمی نقطہ نظر ملتا ہے۔

کیا اس کے لیے ایمان کی ضرورت ہے؟ بالکل۔ یہ سچ ہے۔

ہم اسے کلام پاک کے اندر کئ جگہوں پر دیکھتے ہیں جیسے کہ ایوب کی زندگی میں بھی۔ ہم اسے یوسف کی زندگی میں بھی گہرے طور پر دیکھتے ہیں۔ پیدائش باب 45 میں یوسف اپنے بھائیوں سے کہتا ہے کہ ’’اپنے آپ پر غصہ نہ کرو۔‘‘ انہوں نے اسے دھوکہ دے کر اور غالباً تیرہ یا چودہ سال کی کم عمری میں غلامی کرنے کے لیے بیچ کر ایک خوفناک کام کیا۔

ایک بار جب یوسف نے اپنے بھائیوں کا اپنی اصل شناخت کے ساتھ سامنا کیا تو اس نے ان سے کہا کہ وہ اپنے کیے پر اپنے آپ پرغصہ نہ کریں کیونکہ یہ واقعی قادر مطلق خدا تھا جس نے اسے مصر بھیجا۔ ایک دن جب وہ فرعون کا خاص آدمی بن گیا تو وہ لاتعداد زندگیآں بچا سکا (صرف مصریوں کو ہی نہیں، بلکہ اپنا خاندان بھی— وہ نسل جس سے مسیح آنے والا تھا)۔

بعد میں اس کے بھائی سوچتے ہیں "اب وہ ہمیں مار ڈالے گا۔ ایسی کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ ہمیں معاف کر دے۔‘‘ لیکن وہ انہیں معاف کردیتا ہے! اس کی معافی اس نقطہ نظر پر مبنی ہے جو وہ پیدائش باب 50 ، آیت 20 میں بیان کرتا ہے ' تُم نے تو مُجھ سے بدی کرنے کا اِرادہ کِیا تھا لیکن خُدا نے اُسی سے نیکی کا قصد کِیا تاکہ بُہت سے لوگوں کی جان بچائے' (اس پرزور دیا گیا)۔ اگر خدا نے یوسف کی زندگی میں ایسا کیا ہے تو یقیناً وہ ہماری زندگی میں بھی ایسا کرتا ہے۔

یسوع خُدا کی بہترین مثال ہے جس وہ ظاہر کرتا ہے کہ بہت برے حالات سے بھلائ کو کیسے نکالا جاتا ہے۔ انسانی تاریخ کا سب سے برا واقعہ اس دن پیش آیا جسے ہم مبارک جمعہ کہتے ہیں۔ تو ہم اسے "برا جمعہ" کیوں نہیں کہتے؟ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ خُدا نے کائنات میں ہونے والی بدترین چیز میں سے بھلائ کو نکالا۔ اگر خُدا یسوع کی زندگی اور یوسف کی زندگی میں ایسا کر سکتا ہے تو کیا وہ ہماری زندگی میں بھی ایسا کر سکتا ہے؟ رومیوں باب 8، آیت 28 کہتی ہے ہاں! کیا ہم اس پر یقین کریں گے؟

خدا ہم سے معذرت خواہ نہیں ہوتا

 

خدا تمام بھلائیوں کا سرچشمہ ہے اور وہ ایسا معیار تخلیق کرتا ہے جس سے بھلائ کی پیمائش کی جاتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ جس طرح خدا کام کرتا ہے ہم اس کو پسند نہ کریں لیکن ہم اس پر الزام لگانے کی قابل نہیں ہیں۔  ہم جو فوری اور ابدی موت کے لائق ہیں پھر بھی ہر سانس جو خدا ہمیں دیتا ہے وہ ایک تحفہ ہی ہے۔  

   اپنے ایک مضمون "خدا سے ناراض ہونا کبھی بھی درست نہیں ہے" میں جان پائپر لکھتے ہیں کہ گناہ پر غصہ کرنا اچھا ہے (مرقس باب 3، آیت 5) لیکن نیکی پر غصہ کرنا گناہ ہے

اس لیے خدا سے ناراض ہونا ہرگز درست نہیں۔ جب یوناہ اور ایوب خُدا سے ناراض تھے تو یوناہ کو خُدا کی طرف سے ملامت کی گئی (یوناہ باب 4، آیت 9) اور ایوب نے خاک اور راکھ میں بیٹھ کر توبہ کی (ایوب  باب 42 ، آیت 6)۔

خدا کو ہم سے معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہمیں اس سے اپنی کئی غلطیوں کی معافی مانگنی ہے۔

اگر آپ انتظار کر رہے ہیں کہ خدا کہے کہ وہ آپ کو زندگی میں پیش آنے والی مشکل کے لیے معذرت خواہ ہے ، تو ایسا ہونے والا نہیں ہے۔  

لیکن اگر دوسری طرف آپ اس سے یہ کہتے ہوئے سننا چاہتے ہیں کہ وہ آپ کا خیال رکھتا ہے، اور آپ کے ساتھ اس درد کے لیے ہمدردی رکھتا ہے جو آپ کو برداشت کرنا پڑا، اگر آپ کمزور اور ٹوٹے دل ہیں تو سنیں کہ ' وہ اپنے لوگوں سے کیا کہتا ہے:

 جَیسے باپ اپنے بیٹوں پر ترس کھاتا ہے وَیسے ہی خُداوند اُن پر جو اُس سے ڈرتے ہیں ترس کھاتا ہے۔' زبور 103، آیت 13  

کیا یہ مُمکِن ہے کہ کوئی ماں اپنے شِیرخوار بچّے کو بُھول جائے

اور اپنے رَحِم کے فرزند پر ترس نہ کھائے؟

ہاں وہ شاید بُھول جائے

پر مَیں تُجھے نہ بُھولُوں گا۔

دیکھ مَیں نے تیری صُورت اپنی ہتھیلِیوں پر کھود رکھّی ہے

اور تیری شہر پناہ ہمیشہ میرے سامنے ہے۔ یسعیاہ باب 49 ،آیات 15 اور16

زبور 13 کاَ آغاز اس طرح ہوتا ہے خُداوند کب تک؟ کیا تُو ہمیشہ مُجھے بُھولا رہے گا؟ تُو کب تک اپنا چہرہ مُجھ سے چِھپائے رکھّے گا؟ اود پھر اختتام میں لکھا ہے کہ مَیں نے تُو تیری رحمت پر توکُّل کِیا ہے۔ میرا دِل تیری نجات سے خُوش ہو گا۔ مَیں خُداوند کا گِیت گاؤُں گا کیونکہ اُس نے مُجھ پر اِحسان کِیا ہے  

داؤد صرف تین آیات میں ایک وسیع فاصلہ طے کرتا ہے (2 تا 4)۔ اس کی طرح ہم زبور 13 کی پہلی چار آیات میں درد کو محسوس کر سکتے ہیں، جبکہ اس کی آخری دو آیات کی سچائیوں کی تصدیق کرتے ہیں۔ میں دعا کرتا ہوں کہ ہم بھی خُدا سے ناراض ہونے کی تلخی سے بچیں، اور اس کے بجائے خدا کو اپنے ایمان کا تحفہ دیں۔

  

 

Is It OK to Be Angry with God over Difficult Things?

Sometimes we legitimize being mad at God, and we need to start by correcting that. There’s a difference between being profoundly disappointed, discouraged, or even depressed by a bad situation, and being mad at God about it. Being mad is blaming God, and saying, “It’s your fault.” And blaming God is a dead-end street, because in doing so we turn away from our greatest source of comfort.

What’s Wrong with the World?

If God is who Scripture says He is, then is He actually to blame for all the bad things that happen in the world, and specifically in my life? I think the answer to that is no, He isn’t.

Is there a biblical basis to justify our being mad at God? Having strong emotions about a situation is understandable, and certainly emotions in and of themselves aren’t bad. I think there’s value in honestly confessing to God our feelings of hurt, resentment, and anger. However, we should direct our emotions (including blame) toward the proper object of our sadness, disappointment, and discouragement.

We need to remember whose fault is sin. All suffering in the world is either directly or indirectly the result of sin. In John 9:2-3 Jesus’ disciples asked, “Rabbi, who sinned, this man or his parents, that he was born blind?” Jesus said, “It was not that this man sinned, or his parents, but that the works of God might be displayed in him.”

He said it wasn’t a specific sin. If someone has cancer, it doesn’t necessarily mean they did a particular sin and are now being punished by God. Yet overall, the pain and suffering in this world is a result of punishment for sin, and part of the Fall and Curse. The wages of sin is death (Romans 6:23).  

We’re all part of a sinful race. It’s not just that Adam and Eve, or “really bad people” like Hitler, Chairman Mao, or Pol Pot, sinned. It’s people like you and me who are sinners.

In my books The Goodness of God and If God Is Good, I share a story about G. K. Chesterton, who along with other prominent people, was asked by The London Times to respond to the question, “What’s Wrong with the World?” His was perhaps the shortest essay in history: “Dear Sirs: I am. Sincerely yours, G. K. Chesterton.”  What’s wrong with the world? I am. That’s a biblical truth. We are all part of the problem.

Ann Voskamp writes:

We look and swell with the ache of a broken, battered planet, what we ascribe as the negligent work of an indifferent Creator (if we even think there is one). Do we ever think of this busted-up place as the result of us ingrates, unsatisfied, we who punctured it all with a bite? 

It is sin—sometimes not our sin, but someone else’s—that has resulted in bad things in life. When natural disasters kill people, when cancer ravages a loved one, instead of getting mad at God, we should feel anger toward the sin that lies at the root of all suffering.

The Ultimate Remedy

For the Christian, the ultimate remedy for our feelings of anger and hurt is to affirm God’s goodness, sovereignty, and power. We need to go to Romans 8:28, which says, “God causes all things to work together for good to those who love him, to those who are called according to his purpose.” This is part of the inspired Word of God, just as true as John 3:16.

Yes, this side of eternity, we often don’t understand why God allows difficult things in our lives that He could prevent. But the comfort Romans 8:28 gives me is this: I can look at the worst thing that has ever happened to me and say, “I’m a child of God. God promises me that somehow, He is going to use this very bad, horrific situation for great good in my life.” We can be assured that whatever difficulty He has allowed in our lives has been Father-filtered through His fingers of wisdom and love. That is the ultimate perspective-giver.

Does it require faith? Absolutely. But it is true.

We see it in a number of places in Scripture, including in Job’s life. We also profoundly see it in Joseph’s life. In Genesis 45 he tells his brothers, “Don’t be mad at yourselves.” Now, they did a truly horrible thing by betraying and selling him into slavery, probably at the young age of thirteen or fourteen.

Once Joseph confronts his brothers with his identity, he tells them to not be mad at themselves for what they did because it was really the sovereign God who sent him down to Egypt. One day, being Pharaoh’s right-hand-man, he could save countless lives (not only Egyptians, but also his own family—the race from which Messiah was going to come). Later his brothers think, “He’s going to kill us now. There’s no way he’s going to forgive us.” But he does! His forgiveness is based on the perspective he shares in Genesis 50:20, “You intended it for evil, but God intended it for good to save many lives” (emphasis added). If God did that in Joseph’s life, surely He does that in ours.

Jesus is the ultimate example of God bringing good out of the very bad. The worst thing in human history happened on a day we call Good Friday. Why don’t we call it “Bad Friday”? Because we see that God brought the best good in the universe out of the worst thing that ever happened. If God can do that in Jesus’ life and in Joseph’s life, can He do that in ours? Romans 8:28 says yes! Are we going to believe it?

He Owes Us No Apology

God is the source of all good and the standard by which good is measured. We may not like what God does, but we’re in no position to accuse Him of wrongdoing. Every breath He gives us—we who deserve immediate and eternal death—is a gift.

In his article “It Is Never Right to Be Angry with God”, John Piper writes,

Anger at sin is good (Mark 3:5), but anger at goodness is sin. That is why it is never right to be angry with God. He is always and only good, no matter how strange and painful his ways with us. Anger toward God signifies that he is bad or weak or cruel or foolish. None of those is true, and all of them dishonor him. Therefore it is never right to be angry at God. When Jonah and Job were angry with God, Jonah was rebuked by God (Jonah 4:9) and Job repented in dust and ashes (Job 42:6).

God owes us no apology; we owe Him many. If you’re waiting for God to say He’s sorry for the difficulty you’ve experienced in life, don’t hold your breath.

But if, on the other hand, you want to hear Him say He cares about you, and sympathizes with you for the pain you’ve had to endure, if you are downtrodden and brokenhearted, listen to what He says to His people:

As a father has compassion on his children,
so the LORD has compassion on those who fear him.
(Psalm 103:13)

Can a mother forget the baby at her breast
and have no compassion on the child she has borne?
Though she may forget,
I will not forget you!
See, I have engraved you on the palms of my hands.
(Isaiah 49:15–16)

Psalm 13 begins, “How long, O LORD? Will you forget me forever? How long will you hide your face from me?” It ends, “But I trust in your unfailing love; my heart rejoices in your salvation. I will sing to the LORD, for he has been good to me” (verses 5–6). David travels a vast distance in a mere three verses (v. 2-4). Like him, we can feel the pain of the first four verses of Psalm 13, while affirming the truths of its last two.

May we too avoid the bitterness of anger toward God, and instead give Him the gift of our trust.  

Photo by Ali Afzal on Unsplash

Randy Alcorn (@randyalcorn) is the author of fifty-some books and the founder and director of Eternal Perspective Ministries