خدا پر بھروسہ کرنا جب اپنا درد بے معنی لگتا ہے (Trusting God When the Pain Seems Pointless)

مصنف: رینڈی ایلکورن  ( Author: Randy Alcorn )

مترجم: گوہر الماس      ( Translator: Gohar Almas )

 

میں نے نو ناول لکھے ہیں۔ فرض کریں کہ آپ میری کتابوں کے کرداروں کا انٹرویو کرتے اور اگر آپ نے ان سے پوچھتے کہ "کیا آپ کم نقصان اٹھانا پسند کریں گے؟" مجھے یقین ہے کہ وہ جواب دیں گے ، "ہاں!"

میں اپنے کرداروں کے ساتھ ہمدردی کرتا ہوں۔ لیکن مصنف کی حیثیت سے میں جانتا ہوں کہ آخر میں ان کے تمام مصائب کا ان کو فائدہ ہوگا ، کیوں کہ یہ ان کی ترقی اور نجات کی کہانی کے لئے اہم ہے۔

خدا نے ہم میں سے ہر ایک کو اپنی کہانی میں لکھا ہؤا ہے۔ ہم خود سے جو سمجھتے ہیں  اس سے کہیں زیادہ بڑی چیز کا حصہ ہیں۔ خدا ہم سے چاہتا ہے کہ وہ اس کہانی کو ہمارے ساتھ مل کر مکمل کرے اور ہم اس پر بھروسہ کریں جو ابد تک رہے گا۔ ہم اس کی عبادت کرینگے ، اور یہ ہم اس کے منصوبے کے مطابق کرتے رہیں گے۔

بے معنی درد؟

میرے خیالی کرداروں کی طرح ، جو میری حکمت عملی سے ناواقف ہوتے ہیں، ہمارے پاس بھی یہ دیکھنے کے تناظر کی کمی ہے کہ ہماری زندگی کے کچھ حصے خدا کے مجموعی بڑے منصوبے پر کس طرح پورے اترتے ہیں۔

اچانک کینسر، معذوری ، حادثات ، اوردیگر نقصانات ہونا بے معنی دکھائی دیتا ہے۔

تاہم ، صرف اس وجہ سے کہ ہمیں تکلیف کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا ہے کہ واقعی کوئ وجہ نہیں ہے۔

یقینی طور پر جونی کو ایک 17 سالہ معزور لرکی کی حیثیت سے اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے کی اشد ضرورت محسوس ہوتی تھی۔ پھر بھی اگر پیچھے مڑ کر دیکھیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے  کردار میں نمایاں اضافہ ہؤا اور ان گنت زندگیوں میں کام ہؤا جن میں میرا خاندان بھی شامل ہے۔ خدا نے جونی کے ذریعے لوگوں کو چھوا۔

کلام پاک ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمارے قادر خدا کے محبت کرنے والے ہاتھوں میں ، ہماری تکلیف کبھی بھی بے مقصد نہیں ہوتی ، چاہے وہ آغاز میں اس وقت بے مقصد ہی کیوں نہ لگے۔

جب واقعات وقوع پذیر ہوتے ہیں تو خدا کا کتنی دفعہ کوئ مقصد ہوتا ہے جو سمجھ نہیں آتا؟

سب کچھ ہماری ابدی بھلائی کے لئے ہے

رومیوں 8 باب آیت 28 کتاب مقدس میں سب سے زیادہ گرفت انگیز بیانات میں سے ایک ہے: اور ہم کو معلُوم ہے کہ سب چِیزیں مِل کر خُدا سے محبّت رکھنے والوں کے لِئے بھلائی پَیدا کرتی ہیں یعنی اُن کے لِئے جو خُدا کے اِرادہ کے مُوافِق بُلائے گئے۔

سیاق و سباق سے پتہ چلتا ہے کہ ایک کراہتی ہوئ دنیا میں خدا کو اپنے بچوں کے مسیح کی شکل پر ڈھلنے کی خواہش ضرور ہے۔ اور وہ ہماری زندگی کے مشکل حالات کو دیکھ کرہمارے مسیح جیسے بننے کو ترقی بخشتا ہے۔ 

پرانے عہد نامے میں رومیوں 8: 28 کی طرح، یوسف نے اپنے بھائیوں (جنہوں نے اسے غلامی میں بیچ دیا تھا) سے کہا۔۔۔ تُم نے تو مُجھ سے بدی کرنے کا ا،رادہ کیا تھا لیکن خُدا نے اُسی سے نیکی کا قصد کیا تاکہ بہت سے لوگوں کی جان بچائے چنانچہ آج کے دِن اَیسا ہی ہو رہا ہے ۔

پیدائیش باب 50 آیت 20

"خدا کا مقصد بھلائی کے لئے کیا تھا" اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا نے کسی خراب صورتحال کو صرف بہتر نہیں بنایا تھا بلکہ یوسف کے بھائی کیا کریں گے اس سے خدا پوری طرح واقف تھا ، اور آزادانہ طور پر ان کے گناہ کو اجازت دیتے ہوئے ، خدا کا ارادہ یہ تھا کہ بری صورتحال کو اچھے کے لیے استعمال کرے۔ اس نے ماضی والے اپنے منصوبے کے مطابق یہ سب کیا۔  " اُسی میں خدا کے فرزند بھی اُس کے اِرادہ کے مُوافِق جو اپنی مرضی کی مصلحت سے سب کُچھ کرتا ہے پیشتر سے مُقرّر ہوکر مِیراث بنے۔

 افسیوں باب 1 آیت 11

یوسف کی زندگی میں خدا کے کام کے بارے میں کسی طرح سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ وہ اپنے دوسرے بچوں کی زندگی میں کام مختلف طور سے کرتا ہے۔

در حقیقت ، رومیوں 8: 28 اور افسیوں 11:1  اس پر زور دیتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ بھی اسی طرح کام کرتا ہے۔

کیا آپ رومیوں 8: 8 کے وعدے پر یقین رکھتے ہیں؟ اپنے ساتھ پیش آنے والے بدترین حالات کی شناخت کریں ، اور پھر اپنے آپ سے پوچھیں کہ کیا آپ خدا پر اتنا بھروسہ کرتے ہیں کہ وہ ان حالات کو آپکی بھلائی کے لئے استعمال کرے گا۔ بائبل کا دعویٰ ہے کہ وہ ایسا کرے گا۔

ہمارے اعتماد کا تحفہ

اگر ہم بے وقوفوں کی طرح یہ فرض کرلیں کہ ہمارے باپ کو ہمارے بھروسے کا کوئی حق نہیں ہے جب تک کہ وہ اپنی لامحدود حکمت کو پوری طرح سے ہمارے لیے قابل فہم نہیں بنا دیتا ہے اس طرح ہم ایک ناممکن صورتحال پیدا کرتے ہیں - اس کی حدود کی وجہ سے نہیں ، ہماری حدود کی وجہ سے (یسعیاہ 55: 8۔9)۔

کبھی کبھار ، جیسے یوسف نے آخر کار تجربہ کیا ، خدا ہمیں حقیقت کی جھلک دیتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل ، میرے ایک دوست کے ساتھ ایک سنگین حادثہ ہؤا اور تکلیف دہ صحت یابی کا مرحلہ برداشت کیا۔ لیکن اس نے اس کی جان بچائی۔ میڈیکل ٹیسٹ سے ایک غیرمتعلق حالت کا انکشاف ہوا جس پر فوری توجہ کی ضرورت تھی۔

اس صورت میں حادثے کی ایک مجبوری والی وجہ واضح ہوگئ۔ دوسرے معاملات میں ، ہم وجوہات نہیں جانتے لیکن یہ سب کچھ جو ہم نہیں جانتے ہیں وہ ہماری وجوہات کے بارے اپنی غفلت ہے تو ہم یہ کیوں نہیں مانتے کہ کسی مسلۓ کی کوئی وجہ ہی نہیں؟ صرف خدا اس مقام پر ہے کہ جو اس بات کا تعین کر سکے کہ کیا بامقصد ہے اور کیا بے مقصد۔

کیا اس وقت یسوع کی حیران کن موت بہتوں کے لیے غیرمعقول اور با مقصد نہیں تھی؟

ابدی خوشی کے لئے ایک آغاز

خدا کی آزمائشوں کا سامنا کرتے ہوئے اگر موقع دیا گیا ہوتا ، مجھے یقین ہے کہ یوسف خدا کی کہانی کے مرحلے سے نکل گیا ہوتا۔ ایوب کی کہانی کے وسط میں  دس بچوں کے مرنے کے بعد، اس کا جسم تکلیف میں ڈوبا ہوا تھا ، بظاہر خدا نے اسے چھوڑ دیا تھا۔ اس سے اگر پوچھتے کہ کیا وہ اس سے باہر نکلنا چاہتا ہے؟ تو میں اس کا جواب جانتا ہوں کیوں کہ ایوب باب 3 آیت 11 میں کہتا ہے کہ "میں پیدائش کے وقت ہی مر کیوں نہیں گیا؟"

لیکن اب یہ سب ختم ہوچکا ہے۔ آنے والی نئی زمین پر ، ایوب اور یوسف اور یسوع کے ساتھ جب آپ ایک شاندار ضیافت میں بیٹھیں گے۔ ان سے پوچھئیے گا کہ کیا واقعی وہ سب کچھ ہونا اہم تھا ؟

ایوب کا کہنا ہوگا کہ "بالکل ،" یوسف زور سے ہاں میں سر ہلاۓ گا۔ اور اس بارے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کہ خداوند یسوع کیا جواب دیں گے۔ 

ایک دن ہم بھی ان کے وسیع تر سیاق و سباق میں اور دائمی نقطہ نظر کے ساتھ دیکھیں گے کہ خدا کی کمال رحمتیں ، جن میں سے کچھ کو ہم کبھی سمجھ نہیں سکے  اور ان پر ناراض ہوۓ۔ ہم تعجب کریں گے کہ ہم نے کیوں یسوع کی طرح ہی رہنے کی دعا کی لیکن پھر خدا سے التجا یہ بھی کی کہ ان چیزوں کو ہم سے ہٹا دے جو خدا نے ہماری دعاؤں کے جواب کے طور پر بھیجی ہوتی ہیں۔

اِس لِئے ہم ہِمّت نہِیں ہارتے بلکہ گو ہماری ظاہِری اِنسانِیّت زائِل ہوتی جاتی ہے پھِر بھی ہماری باطِنی اِنسانِیّت روز بروز نئی ہوتی جاتی ہے۔

 کِیُونکہ ہماری دم بھر کی ہلکی سی مُصِیبت ہمارے لِئے ازحدّ بھاری اور ابدی جلال پَیدا کرتی جاتی ہے۔ جِس حال میں کہ ہم دیکھی ہُوئی چِیزوں پر نہِیں بلکہ اندیکھی چِیزوں پر نظر کرتے ہیں کِیُونکہ دیکھی ہُوئی چِیزیں چند روزہ ہیں مگر اندیکھی چِیزیں ابدی ہیں۔

 "(2 کرنتھیوں 4: 16-18 )۔

ایمان اصل میں اس بات پر یقین کرنے کے بارے میں ہے کہ جس دن ہم سب دیکھے گے اس کے ساتھ ساتھ ہمیں گزرے ہوۓ وقت کا سچ بھی پتہ چل جائیگا۔

مرنے کے بعد پانچ منٹ تک انتظار نہیں کرنا بلکہ یہ اعتماد کرنا ہے کہ خدا کا ہمیشہ کوئ مقصد ہوتا ہے۔ آئیے یہاں اور ابھی یہ کرنا سیکھتے ہیں ، ہمارے قوی ؛ قادرمطلق ، اور ہمیشہ مقاصد رکھنے والے نجات دہندہ پر نگاہیں لگاۓ رکھیں۔

 

 

Trusting God When the Pain Seems Pointless

I’ve written nine novels. Suppose you could interview characters from my books. If you asked them, “Would you like to suffer less?” I’m sure they’d answer, “Yes!”

I empathize with my characters. But as the author, I know that in the end all their suffering will be worth it, since it’s critical to their growth, and to the redemptive story.

God has written each of us into His story. We are part of something far greater than ourselves. God calls upon us to trust Him to weave that story together, so that, in the end that will never end, we will worship Him, slack-jawed at the sheer genius of His interwoven plot lines.

Pointless Pain?

But like my fictional characters, who are clueless to my strategies, we lack the perspective to see how parts of our lives fit into God’s overall plan. Cancer, disabilities, accidents, and other losses and sorrows appear devastatingly pointless. However, just because we don’t see any point in suffering doesn’t prove there is no point.

Joni Eareckson Tada is celebrating her fiftieth year in a wheelchair. Does celebrating seem the wrong word? It certainly would have to Joni as a 17-year-old desperately wanting to end her life. Yet looking back, we see her exponential character growth and the countless lives — my family’s included — God has touched through Joni. Scripture teaches us that in our sovereign God’s loving hands, no suffering we face is ever purposeless, no matter how it seems at the moment.

How many times does God have a purpose in events that seem senseless when they happen?

All Things for Our Eternal Good

Romans 8:28 is one of the most arresting statements in Scripture: “We know that for those who love God all things work together for good, for those who are called according to his purpose.” The context shows that in a groaning, heaving world, God’s concern is conforming His children to Christ’s image. And He works through the challenging circumstances of our lives to develop our Christlikeness.

In the Romans 8:28 of the Old Testament, Joseph said to his brothers (who’d sold him into slavery), “As for you, you meant evil against me, but God meant it for good, to bring it about that many people should be kept alive” (Genesis 50:20).

“God meant it for good” indicates God didn’t merely make the best of a bad situation; rather, fully aware of what Joseph’s brothers would do, and freely permitting their sin, God intended that the bad situation be used for good. He did so in accordance with His plan from eternity past. God’s children have “been predestined according to the purpose of him who works all things according to the counsel of his will” (Ephesians 1:11).

Nothing about God’s work in Joseph’s life suggests He works any differently in the lives of His other children. In fact, Romans 8:28 and Ephesians 1:11 are emphatic that He works the same way with us.

Do you believe the promise of Romans 8:28? Identify the worst things that have happened to you, and then ask yourself if you trust God to use those things for your good. The Bible asserts that He will.

The Gift of Our Trust

If we foolishly assume that our Father has no right to our trust unless He makes His infinite wisdom completely understandable, we create an impossible situation — not because of His limitations, because of ours (see Isaiah 55:8–9).

Occasionally, like Joseph eventually experienced, God gives us glimpses of His rationale. Some time ago, a friend of mine endured a serious accident and a painful recovery. But it saved his life. Medical tests revealed an unrelated condition that needed immediate attention.

In that case, a compelling reason for the accident became clear. In other cases, we don’t know the reasons. But given all that we don’t know, why do we assume our ignorance of the reasons means there are no reasons? Only God is in the position to determine what is and isn’t pointless. (Didn’t the excruciating death of Jesus appear both gratuitous and pointless at the time?)

A Head Start on Eternal Joy

Given the option while facing his trials, I’m confident Joseph would have walked off the stage of God’s story. In the middle of Job’s story — with ten children dead, his body covered in boils, apparently abandoned by God — ask him if he wants out. I know his answer because in Job 3:11 he said, “Why did I not perish at birth?”

But that’s all over now. On the coming New Earth, sit by Job and Joseph and Jesus at a lavish banquet. Ask them, “Was it really worth it?

“Absolutely,” Job says. Joseph nods emphatically. No need to wonder how Jesus will respond.

One day, we too will see in their larger context, with an eternal perspective, God’s severe mercies, some of which we never understood, and others we resented. We’ll wonder why we prayed to be more like Jesus but then begged God to remove what He sent to answer those prayers.

“Therefore we do not give up. . . . For our momentary light affliction is producing for us an absolutely incomparable eternal weight of glory. So we do not focus on what is seen, but on what is unseen. For what is seen is temporary, but what is unseen is eternal” (2 Corinthians 4:16–18, CSB).

Faith is believing today what one day, in retrospect, we will see to have been true all along.

Let’s not wait until five minutes after we die to trust that God always has a point. Let’s learn to do it here and now, eyes locked on our gracious, sovereign, and ever-purposeful Redeemer.

Photo by Mishal Waqar on Unsplash

Randy Alcorn (@randyalcorn) is the author of fifty-some books and the founder and director of Eternal Perspective Ministries