از رینڈی الکارن
میری پیاری بیوی نینسی چار سال سے زائدعرصہ سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھی، بہت سی اچھی رپوٹیں تھِیں اور بہت سی بُری۔ہم نے اُس کے تِین آپریشن، تِین مرتبہ شعاعوں کے مرحلے اور تِین مرتبہ کیمو تھراپی کے مرحلے میں ہم نے جذبات کے بڑے اُتار چڑھاؤ دیکھے۔
مجھے وہ دِن اچھی طرح یاد ہے جب ڈاکٹر نے کہا تھا کہ اب یہ سٹیج فور کا کینسر ہے جو اُس کے پھیپھڑوں تک پھیل گیا ہے۔ اُس رات ہم نے اکٹھے مِل کر دعا کی اور پھر مَیں نیچے چلا گیا، صوفے کے پاس گھُٹنوں کے بَل بیٹھ گیا، اپنے ہاتھوں سے اپنے چہرے کو چھُپایا،اور رونے لگا۔ مَیں نے اپنا دِل خُدا کے حضور اُنڈیلا اور اُس سے مداخلت کی التجا کی۔ مَیں نے وہ ہی کِیا جو ۱- پطرس ۵: ۷ ہمیں کرنے کے لیے کہتا ہے:"اور اپنی ساری فکر اُسی پر ڈال دو کیونکہ اُس کو تُمہاری فکر ہے"۔
اچانک مجھے اپنے پاس کوئی موجودگی محسوس ہُوئی۔ مَیں نے اپنی آنکھیں کھولیں دِیں اور اپنے ہاتھوں کے آگے اپنی شکاری کُتیا کے اگلے پنجے دیکھے۔ اُس نے مجھے پیاربھری تشویشی نظروں سے دیکھا، میرے آنسو چاٹے، اور ایسی سوگواراُونچی آواز نکالی جو اُس نے نہ کبھی پہلے نکالی تھی اور نہ ہی اِس کے بعد کی۔ مَیں اُس کو صرف ایک آہ کہہ سکتا ہُوں۔ اُس نے مجھے رُلا دِیا۔
مجھے فوراً رومیوں ۸ باب کا خیال آیا جو ہمیں بتاتا ہے کہ ہم کراہتے ہیں، ساری مخلوقات کراہتی ہے، اور خُدا کا رُوح گہری آہوں کے ساتھ ہماری شفاعت کرتا ہے جو بیان سے باہر ہے۔ مَیں نے محسوس کِیا کہ ہم تِینوں نینسی کے لئے ایک ساتھ کراہ رہے تھے، جس سے ہمیں پیار تھا۔ ہمارا خُدا، مَیں اور ہماری کُتیا۔ اور پھر اِس بار مَیں نے اپنے دونوں ساتھیوں میں تسلی پا ئی۔
تمام تسلی کا خُدا
ایک سا ل بعد، جب نینسی نے آخری سانس لی مَیں وہاں موجود تھا۔ مجھے بہت دُکھ ہُوا، لیکن اِس کے باوجود مجھے اُس کا شوہر ہونے اور مرتے دم تک اُس کے ساتھ رہنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ اب دو سالوں میں جب سے وہ آسمان میں منتقل ہوئی ہیں، اُس کی غیر موجودگی واضح ہے۔ مجھے کُتوں اور فُٹ بال کے بارے میں اُس کی متواتر تحریریں اور چارلس سپر جئین اور جے آئی پیکر اور دیگر کے زبردست اقتباسات یادآتے ہیں۔ مجھے ہمیشہ اُس کی بلند آواز اور ہنسی یاد آتی ہے۔
غم مشکل ہو گیا ہے۔ پھر بھی خُدا میری زندگی میں فضل کا کام کر رہا ہے، جس سے مجھےتسلی ملتی ہے جو مجھے اُس کے بغیر آگے بڑھنے دیتی ہے۔ (ایک دِن یسوع کی حضوری میں اُس کے ساتھ ہونے کی اُمید بڑی تسلی دیتی ہے) زبور ۱۶: ۸ میںداؤدکہتاہے،"مَیں نے خُداوند کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھاہے۔ چونکہ وہ میرے دہنے ہاتھ ہے اِس لئے مجھے جُنبش نہ ہوگی"۔ خُدا کو اپنے سامنے رکھنا اُس کی حضوری اور مستقل مدد کو پہچاننا ہے۔
جب ایک بچی موٹر سائیکلسے گر جاتی ہے اُس کے باپ کو کہنے کی ضرورت نہیں ہوتی،"بیٹا یہ کیوں ہُوا۔ آپ کی رفتار اور موٹر سائیل کے وزن کو دیکھتے ہُوئے، یہاں تُم تیزی سے مُڑے ہو۔۔۔" نہیں۔ بچہ صرف تسلی چاہتا ہے۔ ہمیں وضاحتوں کی ضرورت نہیں جن میں سے ہم اکثر کو نہیں سمجھ پائیں گے۔ "ہمیںعاجزوںکوتسلیبخشنےوالے خُدا کیضرورتہے"(۲-کرنتھیوں۷: ۶)۔ مجھ سمیت لاکھوں لوگ تصدیق کرتے ہیں کہ خُدا نے تاریک اوقات میں اُن کو تسلی دی۔"۔۔۔ تُونے اَے خُداوند! میری مدد کی اور مجھے تسلی دی ہے"(زبور ۸۶: ۱۷)۔
جانی ایرک سن ٹاڈا اور سٹیو ایسٹس کتاب "جب خُدا روتا ہے" میں لکھتے ہیں۔
خُدا،ایک باپ کی طرح، صرف مشورہ نہیں دیتا۔ وہ اپنا آپ دیتا ہے۔ وہ غمگین بیوہ کا شوہر بن جاتا ہے (یسعیاہ ۵۴: ۵)۔ وہ بانجھ عورت کی تسلی بن جاتا ہے(یسعیاہ ۵۴: ۱)۔ وہ یتیموں کا باپ بن جاتا ہے(زبور ۱۰: ۱۴)۔ وہ تنہا شخص کا دُلہا بن جاتا ہے(یسعیاہ ٦٢: ٥)۔ وہ بیماروں کا شافی ہے (خروج ۱۵: ۲۶)۔ وہ پریشان حال اور کُچلے ہُوؤں کا عجیب مشیر ہے(یسعیاہ ۹: ۶)۔
پولُس کہتا ہے "خُدا جو ہر طرح کی تسلی کا خُدا ہے۔ وہ ہماری سب مصبیتوں میں ہم کو تسلی دیتا ہے تاکہ ہم اُس کی تسلی کے سبب سے جو خُدا ہمیں بخشتا ہے اُن کوبھی تسلی دے سکیں جو کسی طرح کی مصیبت میں ہیں"(۲-کرنتھیوں ۱: ۳- ۴)۔ اکثر جب ہم غمگین ہوتے ہیں تو ہم صرف تسلی پانے کا سوچتے ہیں دینے کا نہیں۔ غم کے اوقات ایسے ہوتے ہیں جب ہمارا دھیان صرف تسلی پانے پر ہوتاہے۔ لیکن جب خُدا ہمیں تسلی دیتا ہے، ہم اِس قابل ہوتے ہیں کہ وہی سہولت دوسروں کو تسلی دینے کے لئے استعمال کریں۔
جب کہ وہ اپنے خُدارُوح القدس کی خدمت کے وسیلہ سے ہمیں براہِ راست تسلی دیتا ہے تو وہ ہمیں تسلی دینے کے لئے دوسروں کو استعمال کرنا چاہتا ہے۔ مَیں نے اپنے دوستوں اور خاندان کے افراد کے ذریعے اِس کا تجربہ کِیاہے۔ خُدا کے خاندان میں تسلی لینےاور دینے میں بڑی خُوشی ہے۔ اِس کا مطلب اُس کا آلٰہ کار بننا اور تسلی کا ذریعہ بھی ہے۔
یسوع کی دوستی
یسوع کہتا ہے،"اب سے مَیں تُمہیں نوکر نہ کہُوں گا۔۔۔بلکہ تُمہیں مَیں نے دوست کہا ہے"(یوحنا ۱۵: ۱۵)۔ یہ حیرت انگیز سچائی میرے لئےروزانہ کی گہری تسلی بن گئی ہے۔ جب سے مَیں نے نَو عمری میں یسوع کو جانا، مَیں نے اُس کے ساتھ دوستی کی ہے، لیکن اِس نے گھر کو ہلا دِیا جب میری بہترین دوست نینسی، میرے ساتھ نہ رہی۔ جبکہ دوسرے دوست نے میری مدد کی، میرے لئے یسوع کی دوستی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔ وہ آج بھی ہر روزتسلی دیتا ہے۔
مَیں نے کبھی بھی اُس کے قریب محسوس نہیں کِیا جتنا مَیں اب کرتا ہُوں۔ مَیں اپنے آپ سے کہتا ہُوں کہ نینسی اب اپنے بہترین دوست اور میرے دوست کے ساتھ رہتی ہے۔ اور مَیں ہر روز اپنے ساتھ اُس کی موجودگی کا تجربہ اور احساس کر رہا ہُوں۔ اُس کی موت پر ہم میں سے کسی نے بھی اپنے بہترین دوست کو نہیں کھویا۔وہ اب بھی ہم دونوں کے ساتھ ہے، حالانکہ ابھی ہم دوبارہ نہیں ملے۔
یہ کہ یسوع واقعی ہمارا دوست ہےاور بننا چاہتا ہے بہت سے مسیحیوں کے لئے انقلابی تصور ہے۔ سچ ہے ہمیں اِس حقیقت سے انکار نہیں کرنا چاہئے کہ ہم خُدا کے بندے ہیں اور یہ بذاتِ خُود ایک اعلیٰ دعوت ہے۔ لیکن ہمیں اِس کے ساتھ ہی اِس حیرت انگیزحقیقت کی تصدیق کرنی چاہئے کہ ہم اُس کے دوست اور بچے ہیں۔ خُدا اپنے بندوں سے محبت کر سکتا ہے اور کرتا ہے۔ لیکن وہ یقیناً اپنے بچوں اور اپنے دوستوں سے دِل سے پیار کرتا ہے۔ اور وہ ہمارےلئے بہترین کوشش کا ارادہ رکھتاہے۔ یہاں تک کہ جب وہ بہترین شکل اختیار کرتا ہے اِس سے مختلف ہے جو ہم نے منتخب کِیا ہے۔
ڈوائٹ ایل موڈی نے کہا،"مَیں نے ایک اصول جانا ہے کہ یسوع مسیح کو اپنا دوست سمجھنا۔ اُس کا عقیدہ نہیں محض نظریہ ہے، لیکن وہ خُود ہمارے پاس ہے"۔
جب ہم غمگین ہوتے ہیں تو ہمیں یہ معلوم ہوتاہے کہ غم خُود ایک ساتھی ہے۔ لیکن ہمارا سب سے بڑا ساتھی اور قریبی دوست یسوع ہے۔ اُس نے کہا،"مَیں تجھ سے کبھی دستبردار نہ ہُوں گا"(عبرانیوں ۱۳: ۵)۔ یسوع ہمارے صلاح کاراور بہترین دوست کے ساتھ نجات دہندہ اور خُداوند ہے۔ جب ہم اُس سے باتیں کرتے اور اُس کی سُنتے ہُوئے اُس کے ساتھ وقت گزارتےہیں تو اُس کے ساتھ ہمارا تعلق ترقی کرتا ہے۔ جیسے آسوالڈچیمبرز نے لکھا،"زمین پر سب سے اچھا دوست یسوع مسیح کے مقابلہ میں محض ایک سایہ ہے"۔
ہم اُس کا چہرہ دیکھیں گے
دُکھ اور رونا حقیقی اور گہرا ہوتا ہے لیکن خُدا کے فرزندوں کے لئے یہ عارضی ہیں۔ ایک دِن دُکھ ختم ہو جائیں گے۔ ابدی خوشی راستے میں ہے۔ یسوع ہمارا ابدی دوست ہے،"اُن کی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دے گاپھر نہ موت رہے گی نہ آہ و نالہ، نہ رونا اور نہ درد"(مُکاشفہ ۲۱: ۴ (۔ یہ یسوع کے خُون سے خریدا ہُوا وعدہ ہے۔
اِسی اثناء میں، جب ہمارا دِل دُکھتا ہے، تو آئیے یسوع سے رجوع کریں جو ہماری تسلی اوراطمینان کا بڑا ذریعہ ہے۔"میری مصیبت میں یہی میری تسلی ہےکہ تیرے کلام نے مجھے زندہ کِیا ہے"(زبور ۱۱۹: ۵۰)۔
The Comfort and Friendship of Jesus in Our Grief
Over the four-plus years my beloved wife Nanci faced cancer, there were many good reports and many bad ones. We rode a roller coaster of emotions throughout her three surgeries, three rounds of radiation, and three rounds of chemo.
I vividly remember the day when the doctor said it was now stage-four cancer that had spread to her lungs. That night we prayed together, and then I went downstairs, got on my knees by the couch, buried my face in my hands, and wept. I poured out my heart to God, begging Him to intervene. I did what 1 Peter 5:7 tells us to do: “Cast all your anxiety on him because he cares for you” (NIV).
Suddenly I felt a presence beside me. I opened my eyes and saw our Golden Retriever Maggie’s front paws next to my hands. She gave me a look of loving concern, licked my tears, and then made a loud mournful sound she had never made before and never did after. I can only describe it as a groan. It startled me.
I thought immediately of Romans 8 which tells us that we groan, the whole creation groans, and God’s Spirit intercedes for us with groanings too deep for words. I realized that three of us were groaning together for Nanci, who we all loved—our God, myself, and our dog. And then I wept more, this time finding great comfort in both my companions.
The God of All Comfort
A year later, I was there when Nanci took her last breath. I felt profoundly sad, yet so privileged to have been her husband and to be there till death did us part. In the over two years now since she relocated to Heaven, her absence has been palpable. I miss her frequent texts about dogs and football and great quotes from Charles Spurgeon and J. I. Packer and others. I miss the sound of her voice and her laughter, always so loud and contagious.
The grief has been difficult. Yet God has been doing a work of grace in my life, bringing me comfort that allows me to go forward without her. (This is greatly helped by the anticipation of one day being with her again in the presence of Jesus!) In Psalm 16:8 David says, “I have set the LORD always before me; because he is at my right hand, I shall not be shaken.” To set God before me is to recognize His presence and constant help.
When a child falls off a bike, she doesn’t need her father to say, “Sweetheart, here’s why it happened—given your speed and the weight of this bike, it couldn’t tolerate that sharp turn and…” No. The child simply wants comfort. We don’t need explanations, most of which we wouldn’t understand anyway. We need “God, who comforts the downcast” (2 Corinthians 7:6). Millions of people, including me, attest to the comfort He has brought them in their darkest hours. “…you, LORD, have helped me and comforted me” (Psalm 86:17).
Joni Eareckson Tada and Steve Estes write in When God Weeps,
God, like a father, doesn’t just give advice. He gives himself. He becomes the husband to the grieving widow (Isaiah 54:5). He becomes the comforter to the barren woman (Isaiah 54:1). He becomes the father of the orphaned (Psalm 10:14). He becomes the bridegroom to the single person (Isaiah 62:5). He is the healer to the sick (Exodus 15:26). He is the wonderful counselor to the confused and depressed (Isaiah 9:6).
Paul says, “[The] God of all comfort... comforts us in all our affliction, so that we may be able to comfort those who are in any affliction, with the comfort with which we ourselves are comforted by God” (2 Corinthians 1:3–4). Often when we are grieving, we think only of receiving comfort, not giving it. There are times in grief when receiving needs to be our sole focus. But when God comforts us, we are enabled to also use that same comfort to console others.
While He pours out His comfort to us directly by a ministry of His Holy Spirit, God is also fond of using other people to comfort us. I have experienced this through my friends and family members. There is great pleasure in both giving and receiving comfort in God’s family. It’s fulfilling to be His instrument, and that’s a source of comfort as well.
The Friendship of Jesus
Jesus says, “No longer do I call you servants…but I have called you friends” (John 15:15). This stunning truth has become a deep daily comfort to me. Ever since I came to know Jesus as a teenager, I’ve had a friendship with Him; but it really hit home when my second best friend, Nanci, was no longer here for me. While other friendships have helped, nothing has meant more to me than the friendship of Jesus. It still does. Every day.
I have never felt closer to Him than I do now. I tell myself that Nanci now lives with her best friend and mine. And I am experiencing and sensing His presence with me every day. At her death, neither of us lost our best friend. He is still with both of us, even though we are not yet reunited.
That Jesus truly is and wants to be our friend is a revolutionary concept to many Christians. True, we should never deny or minimize the fact that we are God’s servants, and that itself is a high calling. But we should simultaneously affirm the wondrous fact that we are His children and friends. God can and does love His servants, but He certainly loves wholeheartedly His children and His friends. And He intends to do His best for us, even when that best takes a different form than we might have chosen.
Dwight L. Moody said, “A rule I have had for years is to treat the Lord Jesus Christ as a personal friend. His is not a creed, a mere doctrine, but it is He Himself we have.”
As we grieve, we find that grief itself is a companion; but our greater companion and closest friend is Jesus. He has said, “I will never leave you nor forsake you” (Hebrews 13:5). Jesus is our mentor and best friend, as well as Savior and Lord. Our relationship with Him grows as we spend time with Him—talking and listening to Him. As Oswald Chambers wrote, “The dearest friend on earth is a mere shadow compared to Jesus Christ.”
We Will Behold His Face
Suffering and weeping are real and profound, but for God’s children, they are temporary. One day, grief will end. Forever. Eternal joy is on its way. Jesus, our forever friend, “will wipe away every tear from their eyes, and death shall be no more, neither shall there be mourning, nor crying, nor pain.” This is the blood-bought promise of Jesus.
In the meantime, when our hearts ache, let’s turn to Jesus, our greatest source of comfort and peace. “This is my comfort in my affliction, that your promise gives me life” (Psalm 119:50).